نیپال میں تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے بعد حکومت نے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مالی امداد کی اپیل کردی ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں 620 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 2,400 سے زیادہ لاپتا ہیں، اور ریسکیو ادارے لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ تباہی کی مکمل شدت کا اندازہ لگانے میں مصروف ہے، تاہم جانی و مالی نقصان پہلے ہی انتہائی بھاری ہے۔ مزید سیلاب کے خطرات بھی بدستور موجود ہیں۔
بین الاقوامی ریڈ کراس کے مطابق بدھ کو آنے والے تباہ کن سیلاب سے 93 ہزار تک افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ کئی آبادیاں مکمل طور پر بہہ گئیں جبکہ بڑی تعداد میں خاندان بے گھر ہوکر عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔
سیلاب نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ متعدد پل بہہ گئے اور اہم شاہراہیں متاثر ہونے کے باعث بدترین متاثرہ علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔
ہزاروں بچوں کی تعلیم متاثر
قدرتی آفت نے تعلیمی نظام کو بھی بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق کم از کم 18 اسکول مکمل طور پر تباہ اور 20 کو نقصان پہنچا، جس سے تقریباً 10 ہزار اسکول جانے والے بچے متاثر ہوئے ہیں۔
معیشت پر بھی بھاری اثرات
سیلاب ایسے وقت آیا ہے جب نیپال کی معیشت پہلے ہی محدود وسائل اور غیر رسمی روزگار پر انحصار کے باعث دباؤ میں ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک کی تقریباً 82 فیصد افرادی قوت غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے۔
سیاحت بھی نیپال کی معیشت کا اہم حصہ ہے، لیکن سیلاب سے ٹریکنگ، مذہبی سیاحت اور دیگر سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً ہمالیائی شمالی علاقوں میں۔
صحت کا بحران بڑھنے کا خدشہ
سیلاب سے تین طبی مراکز تباہ جبکہ ایک اسپتال کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مزید دو اسپتالوں تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بے گھری، عارضی پناہ گاہوں میں رش، صاف پانی اور نکاسیٔ آب کے نظام کو پہنچنے والے نقصان اور صحت کی سہولیات میں خلل کے باعث متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بجلی کا نظام بھی شدید متاثر
نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کے مطابق سیلاب سے 11 پن بجلی گھر اور ایک سولر پاور پلانٹ بند ہوگئے، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 431.1 میگاواٹ ہے۔ یہ ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔
اس کے علاوہ زیر تعمیر 15 بجلی منصوبوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ 900 سے زائد پن بجلی کارکن لاپتا ہیں۔
حکومت کو اب ایک طرف لاپتا افراد کی تلاش، متاثرین کی فوری امداد اور صحت کے خطرات سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری جانب تباہ شدہ سڑکوں، پلوں، اسکولوں، طبی مراکز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل درکار ہوں گے۔











