یورپی یونین کے مسابقتی کمیشن نے دنیا کی سب سے بڑی کنفیکشنری کمپنی مونڈیلیز پر 33 کروڑ 75 لاکھ یوروز جرمانہ عائد کردیا ہے۔ ٹک، اوریو اور کیڈبری جیسی چیزیں بنانے والی کمپنی کو لگائے گئے جرمانے کی رقم پاکستانی کرنسی میں ایک ہزار 20 ارب روپے بنتی ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مونڈیلیز پر الزام تھا کہ اس نے اپنی بنائی ہوئی چیزوں کو یورپی یونین کے ایک ملک سے دوسرے بھیجنے پر پابندی لگائی۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا تھا۔۔
یورپی یونین نے تحقیقات تو جنوری 2021 میں شروع کی تھی لیکن کارروائی کا آغاز نومبر 2019 میں اس وقت ہوا جب یورپی یونین کے ماہرین نے شک کی بنیاد پر یورپ بھر میں مونڈیلیز کے دفاتر پر چھاپے مارے۔
یورپی یونین کی کمشنر برائے مسابقت مارگریتھ ویسٹیجر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مونڈیلیز کے اس کام سے یورپی یونین کے ان صارفین کو مالی نقصان پہنچا، جنہوں نے چاکلیٹ، بسکٹ اور کافی کے لیے زیادہ قیمت ادا کی۔
مارگیتھ ویسٹیجر نے کہا کہ یہ معاملہ سیدھا سیدھا کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں کا ہے۔ یہ یورپی شہریوں کے لیے اس لئے بھی تشویشناک ہے کیونکہ لاکھوں لوگ اس وقت بحرانی صورت حال کا شکار ہیں۔
مونڈیلیز کے خلاف فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنی کاروباری طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مصنوعات کی یورپی یونین ہی کے دوسرے ملکوں میں ترسیل پر پابندی لگاکر قوانین کی خلاف ورزی کی۔
یورپی یونین نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ مونڈیلیز نے اپنی مصنوعات کی دوبارہ بیچنے کی صلاحیت کو محدود کیا۔ کمپنی نے اس کام سے منسلک تاجروں پر دباؤ ڈالاکہ وہ مونڈیلیز کی مصنوعات اپنے ملک کے مقابلے میں دوسرے ملکوں میں بھیجتے وقت قیمتیں بڑھائیں۔ 2015 اور 2019 کے درمیان مونڈیلیز نے جرمنی میں ایک تاجر کو آسٹریا، بیلجیم، بلغاریہ اور رومانیہ میں چاکلیٹ فروخت سے بچنے کے لیے روکنے کے لئے اسے سامان دینے سے ہی انکار کردیا۔ یہ سب ناقابل قبول ہے۔











