اہم ترین

سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزائیں ختم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ 2022 کو اپنی حکومت کے خاتمے سے قبل اسلام آباد میں ایک جلسہ عام میں ایک خط (سائفر) لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک غیر ملکی حکومت کی طرف سے لکھا گیا ہے جس میں ان کی حکومت ختم کرنے کی منصوبہ بندی ظاہر ہوتی ہے۔

عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں رواں برس 30 جنوری کو 10، 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ جسے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

فرقین کے دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوموار عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ پنجاب پولیس نے 9 مئی کے ایک مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈال رکھی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اپیلوں کو منظور کرنے کے باوجود عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے۔

پاکستان