بھارت کے معروف طبلہ ساز ذاکر حسین اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ کافی عرصے سے بیمار تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 73 سالہ ذاکر حسین گزشتہ کئی ماہ سے امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں زیر علاج تھے ۔ گزشتہ 2 ہفتوں سے وہ نجی اسپتال میں داخل تھے ۔وہیں انہوں نے دم توڑا۔
ذاکر حسین کے اہل خانہ کے مطابق انہیں آئیڈیوپیتھک پلمونری فائبروسس نامی بیماری لاحق تھی جو پھیپھڑوں کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔
ذاکر حسین کی موت کی خبر اتوار کو بھی پھیلی تھی تاہم لندن میں مقیم ان کی بڑی بہن خورشید اولیا نے اس وقت اس کی تردید کی تھی۔ تاہم انہوں نے ذاکر حسین کی حالت تشویشناک بتائی تھی۔
ذاکر حسین 1951 میں استاد اللہ رکھا کے ہاں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں پرفارم کرنا شروع کیا۔ ذاکر حسین نہ صرف ایک بہترین طبلہ بجانے والے تھے بلکہ ایک بہترین موسیقار بھی تھے۔ انہوں نے ہیٹ اینڈ ڈسٹ اور ان کسٹڈی جیسی فلموں کے لیے موسیقی بھی دی۔ اس نے بین الاقوامی بیلے اور آرکیسٹرا پروڈکشن کے لیے کچھ جادوئی کمپوزیشنز بھی تخلیق کیں۔
ذاکر حسین کو کنٹیمپریری ورلڈ میوزک البم کیٹیگری میں البم ‘گلوبل ڈرم پروجیکٹ’ کے لیے 2009 میں 51 ویں گریمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ استاد ذاکر حسین اپنے کیرئیر میں 7 بار گریمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئے جن میں سے 4 بار انہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
معروف موسیقار کی موت پر بھارتی شوبز انڈسٹری نے بھی دکھ کا اظہار کیا ہے۔ امیتابھ بچن نے ذاکر حسین کو خراج تحسین پیش کیا۔
امیتابھ بچن نے ایک ناقابل تلافی نقصان پر لکھا ذاکر حسین.. ہم سے رخصت ہو گئے۔
کرینہ کپور خان نے ذاکر حسین کے ساتھ اپنی اور والد رندھیر کپور کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرتئ ہوئےلکھا ، “استاد ہمیشہ کے لیے” ۔











