امریکی قانون سازوں نے ایپل اور گوگل کو حکم دیا ہے کہ وہ 19 جنوری تک اپنے ایپ اسٹورز سے ٹک ٹاک کو ہٹا دیں۔
امریکا میں ٹک ٹاک کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر پہلے ہی پابندی لگنے کا خطرہ ہے اور اب امریکی قانون سازوں نے ایپل اور گوگل کو اپنے متعلقہ ایپ اسٹورز سے اس ایپ کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے لیے دونوں کمپنیوں کو 19 جنوری تک کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو امریکا میں لوگ ٹک ٹاک ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔ تاہم اس فیصلے کا موجودہ صارفین پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔
ٹک ٹاک چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کی ملکیت ہے۔ اب اگر بائٹ ڈانس امریکا میں اپنا کام جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے اسے بیچنا پڑے گا۔ اگر یہ 19 جنوری تک کسی دوسرے ملک کی کمپنی کو ٹک ٹاک فروخت نہیں کرتا ہے، تو اس پر پابندی لگ سکتی ہے۔
امریکا ٹک ٹاک کو شہریوں کی حفاظت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ بائٹ ڈانس پر لوگوں کا ذاتی ڈیٹا چوری کرکے اپنی ایپ کے ذریعے چینی حکومت کو دینے کا الزام ہے۔
امریکی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے دو ممبران پارلیمنٹ جان مولینار اور راجا کرشنا مورتی نے ایپل کے سی ای او ٹم کک اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی کو خط لکھے۔ جس میں کہا کہ بائٹ ڈانس کو مناسب اقدامات کرنے کے لیے کافی وقت دیا گیا تھا۔ اب اگر وہ قانون پر عمل نہیں کرتا تو اسے امریکا میں ایسی ایپس تک رسائی، دیکھ بھال اور اپ ڈیٹ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ اس لیے گوگل اور ایپل کو قانون کا احترام کرتے ہوئے ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکی قانون سازوں کا یہ خط امریکی عدالت کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔ بائٹ ڈانس نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
بائٹ ڈانس کو امید ہے کہ اسے یہاں سے ریلیف مل سکتا ہے۔ کمپنی کو یہاں سے ریلیف نہ ملا تو اس کے لئے امریکا میں کاروبار کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تاہم، موجودہ صارفین ایپ کا استعمال جاری رکھ سکیں گے، لیکن انہیں کوئی اپ ڈیٹ یا سپورٹ نہیں ملے گا۔











