اہم ترین

خلاباز خلا میں مہینوں کیسے سانس لیتے ہیں، اتنی آکسیجن کہاں سے آتی ہے

انسانوں کو زندہ رہنے کے لئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ خلا میں آکسیجن نہیں تو پھر زمین سے میلوں دور موجود خلاباز کیسے سانس لیتے ہیں اور اتنی آکسیجن کہاں سے آتئی ہے

اگر ہمارا سانس چند سیکنڈ کے لیے بھی رک جائے تو جان کو خطرہ ہے۔ میدانی علاقوں میں آکسیجن کی وافر مقدار ہوتی ہے اور ہم آسانی سے سانس لے سکتے ہیں لیکن جب ہم اونچائی پر جاتے ہیں تو سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب ہم زیادہ اونچائی پر جاتے ہیں تو ہماری سانسیں مشکل ہوجاتی ہیں اور ہمیں الگ آکسیجن سلنڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ خلاباز زمین سے لاکھوں کلومیٹر کی بلندی پر خلا میں سانس کیسے لیں گے، جب کہ زمین سے صرف 120 کلومیٹر کی بلندی تک آکسیجن موجود ہے۔ خلا میں آکسیجن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو خلا نورد بغیر آکسیجن کے اتنے دن خلا میں کیسے گزارتے ہیں؟ اس کے پیچھے اصل وجہ جانیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ خلا میں آکسیجن نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلاء میں کشش ثقل کام نہیں کرتی۔ اگر خلا میں کشش ثقل کام کرتی تو یہ گیسوں کو باندھ دیتی، جس کی وجہ سے یہاں آکسیجن دستیاب ہوتی۔ تاہم یہاں آکسیجن نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔

دراصل، خلابازوں کے لیے بنائے گئے خلائی جہاز میں آکسیجن کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ اس لیے جب تک وہ خلائی جہاز میں رہتے ہیں، انھیں سانس لینے کے لیے الگ آکسیجن سلنڈر نہیں لینا پڑتا۔

تاہم، اگر خلاباز خلائی جہاز سے باہر نکلتے ہیں، تو انہیں الگ آکسیجن سلنڈر لے جانا پڑتا ہے۔ خلابازوں کو جب بھی خلائی چہل قدمی کرنی ہوتی ہے تو ان کے لیے ایک خاص قسم کا اسپیس سوٹ بنایا جاتا ہے، جس میں آکسیجن کا انتظام ہوتا ہے۔ اس خلائی شوٹ میں، دو قسم کے سلنڈر ہوتے ہیں: آکسیجن اور نائٹروجن

پاکستان