غزہ میں جاری انسانی بحران اور جنگی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس نے اصولی اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی جائے گی، جو جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے عمل کی نگرانی کریں گے۔
معاہدے کے تحت حماس 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گا، جبکہ اسرائیلی افواج غزہ کی محدود سرحدوں کے اندر پیچھے ہٹ جائیں گی۔ اس پیش رفت کا مقصد نہ صرف دشمنی کو ختم کرنا ہے بلکہ انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر اس بین الاقوامی ٹیم کی قیادت کریں گے، جس میں مصر، قطر، ترکی اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجی حکام بھی شامل ہوں گے۔ ان کا کام جنگ بندی کی نگرانی، معاہدے پر عمل درآمد اور کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کو روکنے کے لیے ہوگا۔
ایک امریکی اہلکار نے واضح کیا ہے کہ امریکی فوجی غزہ میں داخل نہیں ہوں گے، ان کی موجودگی صرف نگرانی اور معائنہ تک محدود رہے گی۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی اور انسانی امداد کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہو جاتا ہے، تو یہ غزہ میں قیامِ امن کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔











