ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں کہا گیا تھا کہ دہشت گری کے خلاف میڈیا اور سیاستدان مضبوط بیانیہ بناتے ہوئے ایک آواز اُٹھائیں گے، لیکن اس کے باوجود یہ آوازیں آئیں کہ بات چیت کر لی جائے۔ اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو جنگیں اور غزوات نہ ہوتے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران پاک فوج کے شعبہ ابلاغ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم سب کو مل کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔ پاک افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔خیبرپختونخوا میں 14 ہزار 500 سے زائد آپریشنز کیے گئے۔ رواں سال مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد گذشتہ 10 سال سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس کے ثبوت اور شواہد موجود ہیں۔ اور میں نے یہ کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں وہ کیے گئے ہیں اور کیے جاتے رہیں گے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو سپیس دی گئی۔ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کی گئی اور قوم کو اُلجھایا گیا۔آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پر حملے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں پشاور میں بیٹھیں اور نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور حکومت نے کہا کہ دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کا اہم نکتہ غیرقانونی سپیکٹرم کو ختم کرنا ہے جس میں بھتہ خوری اور نارکوٹیکس کے نیٹ ورک کو ختم کرنا شامل ہے لیکن سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور اس کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔ خیبر پختونخوا میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا۔ جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا فائدے کی وجہ سے خارجیوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اس کے پاس تین چوائسز ہیں۔ وہ خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کر دے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر اس ناسور کو انجام تک پہنچائے۔ یا پھر ریاست کے ایکشن کے لیے تیار رہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں موجود انڈین پراکسیز پاکستان میں کارروائیاں کرتی ہیں۔ افغانستان کو پاکستان پر حملے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ خیبر پختونخوا میں ایک ایسی قیادت لائی جائے جو ریاست کے خلاف ہو کیونکہ اسٹیبلشمنٹ بھی ریاست کا ایک ادارہ ہے۔ریاست پاکستان انتہائی مضبوط ہے۔ سیاسی رکاوٹوں کے باوجود دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے۔ یہ افواج پاکستان کا نہیں قوم کا مقدمہ ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک ان واقعات کو کرنے والے اور کروانے والے، ان کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا۔ پاکستان کے عوام نو مئی کے مقدمات کے سب سے بڑے ضامن ہیں۔ ریاست اس کی ضامن ہے۔











