امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے عبوری صدر احمد الشراع سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی موقع پر امریکی محکمہ خزانہ نے دمشق پر عائد پابندیوں میں مزید چھ ماہ کی توسیع کا اعلان کیا۔
گزشتہ دسمبر میں طویل عرصے سے برسرِاقتدار رہنے والے بشارالاسد کا تختہ پلٹنے والے سابق القاعدہ کمانڈر احمد الشراع نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی رہنما بن گئے ہیں۔
ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ امریکا اور اسرائیل شام کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں شام ایک کامیاب ملک بنے، اور میرا یقین ہے کہ یہ نیا رہنما یہ کر سکتا ہے۔
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے الشراع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سخت جگہ سے آئے ہیں اور ایک مضبوط شخصیت کے مالک ہیں، ہم شام کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
شامی صدر نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ القاعدہ سے اُن کا تعلق ماضی کا حصہ ہے، اور اب شام امریکہ کا حلیف ہے، دشمن نہیں۔ امریکی حکام کے مطابق شام کو عالمی اتحاد برائے انسداد داعش میں شامل ہونے کی منظوری بھی مل گئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے قیصر ایکٹ کے تحت عائد پابندیوں کو 180 دن کے لیے معطل کردیا ہے تاکہ شام اپنی معیشت کی بحالی، استحکام اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو آگے بڑھا سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے شام کو واشنگٹن میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کی اجازت بھی دے دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور اقتصادی تعاون میں پیش رفت متوقع ہے۔











