سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈ اٹ نے آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کے قانون کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔
آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کو ٹکٹ اک، یوٹیوب اور انسٹاگرام سمیت کئی مشہور ایپس سے روک دیا ہے۔ اب اگر کوئی کمپنی اپنے پلیٹ فارم پر آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر صارفین کو خدمات فراہم کرے گی تو 4کروڑ 95 لاکھ آسٹریلوی ڈالرز ( اڑتالیس کروڑ روپے سے زائد ( جرمانے کا سامنا ہوگا۔
ریڈ اٹ نے اپنے عدالتی مؤقف میں کہا ہے کہ یہ قانون اظہارِ رائے کی آزادی پر وار ہے اور اس کی ہائی کورٹ سے نظرِ ثانی کرائی جائے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ریڈاٹ بنیادی طور پر بالغ صارفین کے لیے ہے، اسے ٹک تاک یا انسٹاگرام کے ساتھ ملا کر دیکھنا غلط ہے۔
Reddit کے ترجمان نے مزید کہا کہہم بچوں کو ٹارگٹ نہیں کرتے۔ ہماری ایپ کی عمر کی حد پہلے ہی 17 سال ہے۔ عمر کی تصدیق پلیٹ فارم پر نہیں بلکہ ایپ اسٹور سطح پر ہونی چاہیے۔ ہر پلیٹ فارم سے شناختی ڈیٹا جمع کروانا پرائیویسی کے شدید خطرات پیدا کرے گا۔
کمپنی نے واٹس ا یپ، روبلوکس اور پینٹریسٹ جیسے پلیٹ فارمز پر پابندی نہ لگانے پربھی سوال اٹھائے ہیں اور اسے غیر مساوی سلوک قرار دیا ہے۔
ریڈ اٹ کا کہنا ہے کہ یہ قانون نوجوانوں کی حفاظت کا صحیح حل نہیں، لیکن وہ اس پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قانونی جانچ بھی کرانا چاہتے ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلوی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ بچوں اور والدین کے ساتھ کھڑی ہے ، کمپنیوں کے ساتھ نہیں۔ بچوں کو سوشل میڈیا پر ہونے والی بدسلوکی، خطرناک مواد اور الگورتھمز کے دباؤ سے بچانا ضروری ہے، چاہے آغاز میں اس پابندی کو مکمل طور پر نافذ کرنا مشکل کیوں نہ ہو۔
اس پابندی کو پوری دنیا میں باریکی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ نیوزی لینڈ اور ملائیشیا بھی ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں۔











