اہم ترین

ناقابلِ شکست سپر مڈل ویٹ چیمپئن ٹیرنس کرافورڈ نے ریٹائرمنٹ لے لی

امریکی باکسنگ اسٹار ٹیرنس کرافورڈ نے پیشہ ورانہ باکسنگ سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا ہے۔ نیبراسکا سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ کرافورڈ نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔

کرافورڈ نے کہا کہ وہ مقابلوں سے اس لیے دور نہیں ہو رہے کہ وہ لڑنے کے قابل نہیں رہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایک مختلف نوعیت کی جنگ جیت چکے ہیں۔ ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے فیصلے خود کرے اور اپنی شرائط پر رخصت ہو۔

یاد رہے کہ ٹیرنس کرافورڈ نے ستمبر میں لاس ویگاس میں میکسیکن باکسنگ لیجنڈ کینلو الواریز کو شاندار انداز میں شکست دے کر ناقابلِ تردید سپر مڈل ویٹ چیمپئن شپ اپنے نام کی تھی۔ اس فتح کے بعد وہ ڈبلیو بی اے، آئی بی ایف اور ڈبلیو بی او کے سپر مڈل ویٹ چیمپئن کے طور پر ریٹائر ہوئے۔

کرافورڈ کے کیریئر کا ریکارڈ 42 ناقابلِ شکست فتوحات پر مشتمل ہے، جن میں 31 ناک آؤٹس شامل ہیں۔ انہوں نے ڈبلیو بی سی سپر مڈل ویٹ بیلٹ بھی حاصل کی تھی، تاہم اس ماہ کے آغاز میں سینیگ فیس کے تنازع کے باعث یہ اعزاز ان سے واپس لے لیا گیا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں کرافورڈ نے کہا کہ ان کا پورا کیریئر لوگوں کو غلط ثابت کرنے کی جستجو کے گرد گھومتا رہا۔ ان کے بقول ہر فائٹر جانتا ہے کہ یہ لمحہ ایک دن ضرور آئے گا، مگر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کب۔

کرافورڈ نے کہا کہ وہ نے بیلٹس، دولت یا شہرت کے لیے نہیں بلکہ اس احساس کے لیے جدوجہد کی، جب دنیا آپ پر شک کرے اور آپ مسلسل خود کو ثابت کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان، اپنے شہر اور اس بچے کے لیے لڑتے رہے جو کبھی صرف ایک خواب اور دستانوں کا جوڑا رکھتا تھا۔

ٹیرنس کرافورڈ نے 2008 میں پروفیشنل باکسنگ میں قدم رکھا اور جلد ہی دنیا کے نمایاں باکسروں میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے 2014 میں اسکاٹ لینڈ کے رکی برنز کو شکست دے کر ڈبلیو بی او لائٹ ویٹ ورلڈ ٹائٹل جیتا۔

کرافورڈ نے اپنے شاندار کیریئر میں پانچ مختلف ویٹ کیٹیگریز میں 18 عالمی ٹائٹلز حاصل کیے۔ حیران کن طور پر وہ اپنے پورے کیریئر میں کبھی باضابطہ طور پر ناک ڈاؤن نہیں ہوئے، جبکہ ان کی تمام فتوحات یا تو متفقہ فیصلے یا ناک آؤٹ کے ذریعے حاصل ہوئیں اور کسی جج نے کبھی ان کے خلاف فیصلہ نہیں دیا۔

پاکستان