اہم ترین

اسپیس ایکس اور ایک اے آئی کا انضمام، ایلون مسک کا خلاء میں ڈیٹا سینٹرز بنانے کا اعلان

ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے ان کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی کو ضم کر لیا ہے۔ اس انضمام کا مقصد خلاء میں قائم ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنا ہے۔

ایلون مسک کے مطابق یہ انضمام اسپیس ایکس کی راکٹ ٹیکنالوجی اور ایکس اے آئی کی جدید مصنوعی ذہانت کو یکجا کرتا ہے، جسے انہوں نے زمین اور خلاء دونوں میں سب سے زیادہ باہمی مربوط اور انقلابی اختراعی نظام قرار دیا ہے۔

مسک نے بتایا کہ اسپیس ایکس لاکھوں سیٹلائٹس پر مشتمل ایک ایسا نیٹ ورک قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو مدار میں ڈیٹا سینٹرز کے طور پر کام کرے گا۔ یہ سیٹلائٹس خلاء میں مسلسل دستیاب شمسی توانائی استعمال کرتے ہوئے اے آئی کمپیوٹنگ کے لیے درکار بجلی فراہم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ زمین پر اے آئی کمپیوٹنگ کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے سے ماحولیاتی مسائل اور مقامی آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اس لیے خلاء ایک بہتر متبادل ہے۔

اسپیس ایکس کا دعویٰ ہے کہ اسٹارشپ راکٹ کے ذریعے ایک گھنٹے میں ایک لانچ کی صلاحیت حاصل کی جائے گی، جس میں ہر پرواز 200 ٹن سامان لے جا سکے گی۔ منصوبے کے تحت تقریباً دس لاکھ سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

انضمام کی مالی تفصیلات یا سیٹلائٹس کی تعیناتی کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم بلومبرگ کے مطابق مشترکہ کمپنی کی مالیت تقریباً 1.25 ٹریلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

ایکس اے آئی، جو گروک چیٹ بوٹ چلاتی ہے، جنوری میں ہونے والی فنڈنگ کے بعد 230 ارب ڈالر کی مالیت تک پہنچ چکی ہے۔ اس انضمام سے سرمایہ، کمپیوٹنگ وسائل اور تکنیکی مہارت کو یکجا کیا جائے گا۔

ادھر امریکی میڈیا کے مطابق اسپیس ایکس جون کے وسط میں ابتدائی عوامی حصص فروخت (آئی پی او) کی تیاری کر رہی ہے، جس کے ذریعے 50 ارب ڈالر تک اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔

اسپیس ایکس اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سیٹلائٹ سروس اسٹارلنک کی مالک ہے اور خلائی لانچ مارکیٹ میں نمایاں برتری رکھتی ہے۔ کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں میں چاند اور مریخ کے مشنز کے لیے اسٹارشپ راکٹ کی تیاری بھی شامل ہے۔

پاکستان