امریکی ماہرین کے مطابق مردوں میں دل کی بیماری کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں کئی سال پہلے ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق مردوں میں دل کی بیماری کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں اوسطاً سات سال پہلے نمایاں ہو جاتا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 50.5 سال کی عمر تک 5 فیصد مرد دل کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہی شرح 57.5 سال کی عمر میں سامنے آتی ہے۔
تحقیق کے مطابق دل کی بیماری کے خطرے میں مردوں اور خواتین کے درمیان فرق 35 سال کی عمر سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ مردوں میں تیسری دہائی سے ہی دل کی بیماریوں کی مزید مؤثر اسکریننگ اور بروقت تشخیص کی ضرورت ہے۔
کارڈیا اسٹڈی کے ڈیٹا پر مبنی اس تحقیق میں 18 سے 30 سال کی عمر کے 5112 افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں 30 سال سے زائد عرصے تک فالو کیا گیا۔ سائنس دانوں نے کورونری ہارٹ ڈیزیز، ہارٹ فیلئر اور فالج سمیت دل کی مختلف بیماریوں کے آغاز کی عمر اور خطرے کا جائزہ لیا۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ مردوں میں مجموعی طور پر دل کی بیماری، ہارٹ فیلئر اور کورونری ہارٹ ڈیزیز کے کیسز زیادہ پائے گئے، تاہم فالج کے کیسز میں مردوں اور خواتین کے درمیان کوئی نمایاں فرق نہیں تھا۔ کورونری ہارٹ ڈیزیز کے حوالے سے بھی مرد خواتین کے مقابلے میں تقریباً 10 سال پہلے خطرے کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی 30 سال کی عمر تک مرد اور خواتین میں خطرہ تقریباً برابر ہوتا ہے، تاہم 35 سال کے بعد مردوں میں خطرہ تیزی سے بڑھنے لگتا ہے، جو اکثر معمول کی اسکریننگ کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
دل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے صحت مند طرزِ زندگی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب نیند، ذہنی دباؤ پر قابو اور صحت بخش غذائی عادات کو اپنانا ہر عمر اور ہر جنس کے افراد کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ زیادہ چکنائی اور الٹرا پروسیسڈ غذا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور صحت مند چکنائیاں دل کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس حوالے سے میڈیٹیرینین اور ڈیش ڈائٹ کو دل کی صحت کے لیے مؤثر قرار دیا گیا ہے۔











