اہم ترین

اسلام آباد: امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ: 31 افراد جاں بحق

اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں 31 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔

بی بی سی کے مطابق مسجدخدیجۃ الکبریٰ میں ٹھیک ایک بجے نماز جمعہ کا آغاز ہوا۔ نمازی پہلی رکعت میں سجدے میں گئے کہ دھماکا ہوگیا۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا ہر جانب سے چیخ و پکار شروع ہو گئی۔

لاشوں اورزخمیوں کوپمز اسپتال منتقل کیاگیا۔ جہاں طبی عملے نے 31 افراد کے جاں بحق جب کہ 160 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

خود کش حملے کے ایک اور عینی شاہد حیدر عباس رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعے کی نماز کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ دو مسلح افراد نے امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر سکیورٹی پر مامور افراد پر فائرنگ کر دی۔

حیدرعباس رضوی کےمطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے کیورٹی پر مامور دو افراد گولیاں لگنے سے نیچے گر گئے جبکہ تیسرے نے جوابی فائرنگ کی۔جس سے ایک حملہ آور گلیوں میں چھپ گیا جبکہ دوسرے نے فائرنگ جاری رکھی۔

عینی شاہد کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور کی فائرنگ کے نتیجے میں سکیورٹی پر مامور تیسرا شخص بھی زخمی ہو کر نیچے گر گیا تاہم اس نے فائرنگ جاری رکھی۔ خودکش حملہ آور امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا ۔ تیسرےسیکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے خودکش حملہ آور زخمی ہوکر نیچے گرا اور ایک زبردست دھماکا ہوا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق تفصیلات سامنے آ چکی ہیں، یہ خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا۔ لیکن اس کے اعضا کے فارنزک کے بعد یہ تفصیلات ملی ہیں کہ وہ کتنی بار افغانستان گیا۔دہشت گردی کی حالیہ لہر میں مذہب اور لسانیت کی بنا پر آسان اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان