یورپی یونین نے ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کو اپنے پلیٹ فارم پر موجود مبینہ طور پر لت پیدا کرنے والے فیچرز میں فوری تبدیلی کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بصورتِ دیگر اس پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یورپی کمیشن کے مطابق، چینی ملکیت والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک یورپی بلاک کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے ) کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے، جو آن لائن پلیٹ فارمز کو صارفین بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔
یورپی کمیشن نے دو سال قبل شروع کی گئی تحقیقات کے ابتدائی نتائج جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹک ٹاک اپنے بعض ڈیزائن فیچرز کے نوجوانوں اور کم عمر صارفین پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔ کمیشن کے مطابق ٹک ٹاک پر موجود لامتناہی اسکرول ، آٹو پلے ویڈیوز، بار بار آنے والی پش نوٹیفکیشنز اور انتہائی ذاتی نوعیت پر مبنی سفارشاتی الگورتھم صارفین میں ضرورت سے زیادہ استعمال اور نفسیاتی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹک ٹاک نے یہ جانچنے کے لیے ناکافی اقدامات کیے کہ اس کے یہ فیچرز کس طرح صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یورپی یونین کے قوانین کے تحت، آن لائن پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ ایسے ڈیزائن سے گریز کریں جو صارفین کو غیر ارادی طور پر طویل وقت تک پلیٹ فارم سے جوڑے رکھیں۔
دوسری جانب ٹک ٹاک نے یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی صارفین کے تحفظ کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات کر چکی ہے اور وہ تحقیقات میں یورپی حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔











