اہم ترین

کیا روبوٹ بسائیں گے نئی دنیا؟ ایلون مسک کا انسانیت کے مستقبل پر بڑا دعویٰ

دنیا کے معروف ٹیکنالوجی ماہر، ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر ایسا دعویٰ کر دیا ہے جس نے پوری دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے۔

ایلون مسک کے مطابق ٹیسلا کا ہیومنائیڈ روبوٹ اوپٹیمس مستقبل میں ایسا پہلا مشینی نظام بن سکتا ہے جو خود کی نقل تیار کرنے اور انسانی مدد کے بغیر مکمل تہذیب قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ وہ بھی زمین سے باہر، دوسرے سیاروں پر۔

سائنس فکشن نہیں، مستقبل کی جھلک؟

اگرچہ یہ بات سننے میں کسی سائنس فکشن فلم جیسی لگتی ہے، لیکن ایلون مسک کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے، اس تصور کو مکمل طور پر ناممکن نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق طویل مدت میں ایسے روبوٹ حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔

وان نیو مین مشین کیا ہے؟

ایلون مسک نے اوپٹیمس کو وان نیو مین مشین سے تشبیہ دی ہے۔ یہ تصور پہلی بار 1945 میں ریاضی دان جان وون نیومن نے پیش کیا تھا، جس کے مطابق ایسی مشینیں بغیر کسی انسانی مداخلت کے خود کی کاپی بنا سکتی ہیں اور اپنے جیسے مزید سسٹمز تیار کر سکتی ہیں۔

کیا دوسرے سیاروں پر بسے گی تہذیب؟

یہ بحث اس وقت مزید تیز ہو گئی جب اسپیس ایکس نے اے آئی کمپنی ایکس اے آئی کا حصول مکمل کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایلون مسک نے کہا کہ نظریاتی طور پر اوپٹیمس روبوٹ دوسرے سیاروں پر دستیاب وسائل استعمال کر کے نئے روبوٹ، مکانات اور بنیادی ڈھانچہ تیار کر سکتے ہیں، جس سے انسانوں کے لیے زمین سے باہر آباد ہونے کا راستہ کھل سکتا ہے۔

کسی بھی قابلِ رہائش سیارے پر نئی دنیا؟

ایلون مسک کے مطابق اوپٹیمس مستقبل میں ایسا پہلا وان نیو مین روبوٹ بن سکتا ہے جو کسی بھی قابلِ رہائش سیارے پر اپنے بل بوتے پر مکمل تہذیب کھڑی کر دے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ ہدف ابھی بہت دور ہے۔ فی الحال اوپٹیمس ٹیسٹنگ مرحلے میں ہے اور اسے بنیادی جسمانی کاموں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

زمین پر بھی بدل سکتا ہے انسانی مستقبل

ایلون مسک کی سوچ صرف خلاء تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق زمین پر اوپٹیمس جیسے روبوٹ غربت کم کرنے، خطرناک کاموں کو سنبھالنے اور انسانی محنت کا متبادل بن سکتے ہیں، تاکہ انسان تخلیقی صلاحیتوں، سیکھنے اور ذاتی ترقی پر توجہ دے سکیں۔

ٹیسلا تیزی سے بڑھا رہی ہے اوپٹیمس کی تیاری

رپورٹس کے مطابق ٹیسلا اوپٹیمس کی ترقی کی رفتار تیز کر رہی ہے تاکہ اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔ اگرچہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ایلون مسک کے ان دعوؤں نے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور انسانیت کے مستقبل پر ایک نئی عالمی بحث ضرور شروع کر دی ہے۔

پاکستان