اہم ترین

امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی تجربات کرنے کا الزام

امریکا نے چین پر 2020 میں خفیہ جوہری تجربہ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی نائب وزیر خارجہ تھامس ڈی نانو نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران کیا۔

امریکی نائب وزیر خارجہ تھامس ڈی نانو کے مطابق امریکا کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ چین نے عالمی نگرانی سے بچتے ہوئے خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا۔

گلوان جھڑپ کے صرف 7 دن بعد تجربہ؟

تھامس ڈی نانو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ چین نے 22 جون 2020 کو ایک خفیہ جوہری دھماکا کیا، جو مشرقی لداخ میں وادیٔ گلوان کے تصادم کے صرف سات دن بعد انجام دیا گیا۔

واضح رہے کہ 15 جون 2020 کو ہونے والی اس جھڑپ میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اور بھارت کو اپنے زیر تسلط علاقے چھوڑنے پڑ گئے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ خفیہ جوہری تجربہ سنکیانگ کے علاقے لوپ نور میں کیا گیا، جو بھارتی سرحد کے قریب واقع ہے۔ چین نے اس تجربے کو چھپانے کے لیے ڈیکپلنگ نامی تکنیک استعمال کی۔

کیا ہے ڈیکپلنگ تکنیک؟

امریکی افسران نے وضاحت کی کہ ڈیکپلنگ ایک ایسی تکنیک ہے جس میں زیرِ زمین بڑے گڑھے میں دھماکا کر کے زلزلہ کی لہروں کو دبایا جاتا ہے، جس سے عالمی زلزلہ پیما نظام کے لیے دھماکے کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

سیکڑوں ٹن صلاحیت کے تجربات کی تیاری؟

امریکی حکومت کے مطابق انہیں علم ہے کہ چین نے سیکڑوں ٹن طاقت کے جوہری دھماکا خیز تجربات کی تیاری بھی کی تھی اور ان سرگرمیوں کو عالمی اداروں کی نظروں سے چھپانے کے لیے ڈیکپلنگ تکنیک کا سہارا لیا گیا۔

عالمی تناظر میں الزامات کی اہمیت

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری اسلحہ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہو چکا ہے۔ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل کے کسی بھی نیوکلیئر معاہدے میں چین کو شامل کرنے کے خواہاں رہے ہیں۔

امریکی انکشافات کے بعد چین کی جوہری سرگرمیوں پر عالمی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ بیجنگ کی جانب سے ان الزامات پر فی الحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان