ایرانی حکام نے چار سیاسی شخصیات کو ملک کے سیاسی اور سماجی نظام کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں کی گئیں جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فوجی خطرات کا سامنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اتوار کو گرفتار ہونے والوں میں تین معروف اصلاح پسند سیاست دان شامل ہیں۔ ان میں آذر منصوری (سربراہ ایران ریفارم فرنٹ)، سابق سفارتکار محسن امین زادہ اور سابق رکن پارلیمنٹ ابراہیم اصغر زادہ شامل ہیں، جبکہ چوتھے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے میزان کے مطابق عدلیہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیاسی و سماجی صورتحال کو خراب کرنے اور سڑکوں پر موجود دہشت گرد عناصر کے اقدامات کو جواز دینے میں ملوث تھے۔
ایران ریفارم فرنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آذر منصوری کو عدالتی وارنٹ کے تحت ان کے گھر کے دروازے سے پاسدارانِ انقلاب ( ) کی انٹیلیجنس فورسز نے گرفتار کیا۔ تنظیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے دیگر سینئر رہنماؤں کو بھی طلب کر لیا ہے۔
یہ گرفتاریاں جنوری میں ہونے والے شدید احتجاج کے بعد سامنے آئی ہیں، جن کا آغاز معاشی بحران کے خلاف تہران سے ہوا اور بعد ازاں پورے ملک میں حکومت مخالف تحریک میں بدل گیا۔ ایرانی حکومت کے مطابق ان مظاہروں میں 3117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ایچ آر ای این اے) کا دعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 6854 تک پہنچ چکی ہے، اور ہزاروں مزید کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایرانی حکام نے مظاہرین کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے بدامنی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کی مداخلت کو ٹھہرایا ہے۔ ان واقعات کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے، جسے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ اگلے ہفتے مزید بات چیت متوقع ہے۔
ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات کئی سال تک محسوس کیے جائیں گے۔











