جاپان نے 2011 سے بند دنیا کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کاشیوازاکی-کاریوا کو دوبارہ فعال کر دیا۔
اے ایف پی کے مطابق کاشیوازاکی- کاریوا پلانٹ 2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد بند تھا، جب زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں فوکوشیما کے تین ری ایکٹرز میں میلٹ ڈاؤن ہوا تھا۔ اب جاپان جوہری توانائی کی طرف دوبارہ رجوع کر رہا ہے تاکہ فوسل فیول پر انحصار کم کیا جا سکے، 2050 تک کاربن نیوٹرلٹی حاصل کی جا سکے اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
وزیر اعظم سانائی تاکائیچی، جنہوں نے حال ہی میں زبردست انتخابی فتح حاصل کی، نے اقتصادی ترقی اور توانائی کے لیے جوہری توانائی کو فروغ دینے کی حمایت کی ہے۔
ٹیپکونے 21 جنوری کو سات میں سے ایک ری ایکٹر دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اگلے دن مانیٹرنگ الارم کے باعث اسے بند کرنا پڑا۔ کمپنی نے الارم کے سیٹنگز تبدیل کر دی ہیں کیونکہ ری ایکٹر محفوظ طریقے سے چلانے کے قابل ہے۔
تجارتی آپریشن 18 مارچ یا اس کے بعد شروع ہوگا، جس کے لیے دوبارہ جامع جانچ کی جائے گی۔ کاشیوازاکی-کاریوا کی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جوہری پلانٹ ہے، تاہم صرف ایک ری ایکٹر کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔
علاقائی عوام میں پلانٹ کی بحالی کے حوالے سے شدید تقسیم پائی جاتی ہے: تقریباً 60 فیصد رہائشی اس کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ 37 فیصد حمایت کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے حادثات اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، اور جنوری میں سات گروپوں نے تقریباً 40 ہزار دستخطوں کے ساتھ ٹیپکو اور جوہری ریگولیشن اتھارٹی کو پٹیشن جمع کرائی تھی۔
ٹیپکو نے ہم کاشیوازاکی-کاریوا نیوکلئیر پاور اسٹیشن میں حفاظتی اقدامات کو اپنی اولین ترجیح کے طور پر جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔











