یورپی یونین نے میٹا کو خبردار کیا ہے کہ وہ واٹس ایپ کو حریف مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹس کے لیے قابلِ رسائی بنائے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے جاری اینٹی ٹرسٹ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ میٹا یورپی یونین کے مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق یورپی کمیشن نے میٹا کی شرائط میں جنوری 2026 سے کی گئی تبدیلیوں کے باعث تھرڈ پارٹی اے آئی اسسٹنٹس کو واٹس ایپ کے ذریعے صارفین تک رسائی سے مؤثر طور پر روک دیا گیا ہے۔
یورپی یونین کی کمپیٹیشن چیف ٹریسا ریبیرا نے کہا کہ کمیشن اس بات پر غور کر رہا ہے کہ تحقیقات کے دوران ہی میٹا پر عبوری پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ واٹس ایپ تک حریف کمپنیوں کی رسائی برقرار رکھی جا سکے اور یورپ میں مسابقت کو ناقابلِ تلافی نقصان سے بچایا جا سکے۔
یورپی کمیشن نے میٹا کو باقاعدہ اسٹیٹمنٹ آف آبجیکشنز جاری کر دیا ہے، جو اینٹی ٹرسٹ تحقیقات میں ایک اہم قانونی مرحلہ ہوتا ہے۔ تاہم کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام تحقیقات کے حتمی فیصلے کو قبل از وقت ظاہر نہیں کرتا۔ میٹا کو الزامات کا جواب دینے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
میٹا نے یورپی کمیشن کے ابتدائی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ میٹا کے ترجمان کے مطابق صارفین کے پاس اے آئی استعمال کرنے کے متعدد متبادل ذرائع موجود ہیں، جبکہ کمیشن غلط طور پر واٹس ایپ بزنس اے پی آئی کو چیٹ بوٹس کے لیے مرکزی ذریعہ سمجھ رہا ہے۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ یورپی اکنامک ایریا میں صارفین کے لیے میسجنگ ایپس کے شعبے میں میٹا، خصوصاً واٹس ایپ کے ذریعے، غالب حیثیت رکھتا ہے اور اسی غالب پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے حریفوں کو رسائی سے روک رہا ہے۔
ٹریبرا ریبیرا نے کہا کہ کسی بھی غالب ٹیکنالوجی کمپنی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی طاقت کا استعمال کر کے خود کو غیرمنصفانہ فائدہ پہنچائے۔۔











