یورپی یونین کے ماحولیاتی ادارے نے کہا ہے کہ امریکا اور یورپ میں شدید سردی کی لہر کے باوجود جنوری 2026 دنیا کا پانچواں گرم ترین جنوری ثابت ہوا ہے۔ یورپی یونین کے موسمیاتی مانیٹر کے مطابق عالمی درجہ حرارت مجموعی طور پر معمول سے کہیں زیادہ رہا۔
اےایف پی نے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہےکہ جنوری کے آخری ہفتوں میں شمالی نصف کرے کو شدید سرد ہواؤں کا سامنا کرنا پڑا، جب قطبی جیٹ اسٹریم نے یورپ اور شمالی امریکا کی جانب انتہائی ٹھنڈی ہوا کو دھکیل دیا۔ اس کے باوجود دنیا کے بیشتر حصوں خاص طور پر آرکٹک اور مغربی شمالی امریکا کے کئی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے بلند رہا۔
یورپی مرکز برائے درمیانی مدت موسمی پیش گوئی (ای سی ایم ڈبلیو ایف) کی موسمیاتی حکمتِ عملی کی سربراہ سمانتھا برگس نے کہا کہ جنوری 2026 نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ موسمیاتی نظام ایک ہی وقت میں مختلف خطوں میں انتہائی متضاد کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایک جانب شدید سردی اور دوسری جانب غیر معمولی گرمی موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت ہے۔
ادارے کے مطابق جنوری میں عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ میں یہ مہینہ 2010 کے بعد سب سے سرد جنوری رہا، جہاں اوسط درجہ حرارت 2.34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
دوسری جانب امریکا میں جنوری کے دوران ایک شدید برفانی طوفان نے نیو میکسیکو سے لے کر مین تک بڑے پیمانے پر برف باری اور برفانی بارش کی، جس کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو گئے۔ حکام کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں 100 سے زائد اموات ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بدستور انسانی سرگرمیوں کے باعث بڑھتی ہوئی حدت کے دور سے گزر رہی ہے۔ 2024 دنیا کا سب سے گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا، 2023 دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ 2025 کو اب تک کا تیسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے۔











