اہم ترین

امریکا کا ایران کے جزیرہ خارگ پر بڑا حملہ، تمام فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین بم حملوں میں سے ایک کرتے ہوئے ایران کے جزیرہ خارگ پر موجود تمام فوجی اہداف کو تباہ کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ حملے کے دوران جزیرے پر موجود تیل کے بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔ تاہم اگر ایران یا کوئی اور ملک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو امریکا اس فیصلے پر فوری نظرثانی کر سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک میں جو کچھ باقی بچا ہے اسے بچا لیں۔

اس سے قبل ایئر فورس ون میں روانگی سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے جنگ کے دورانیے سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ یہ تنازع کب تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فوج کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے بھی جزیرہ خارگ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں فوجی دفاعی تنصیبات، بحری اڈہ، ہیلی کاپٹر کنٹرول ٹاور اور ایک ہیلی کاپٹر کیریئر کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوجی ہیڈکوارٹر کے کمانڈ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر جزیرہ خارگ پر موجود تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران خطے میں امریکی مفادات سے وابستہ تیل کی تمام تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران ایران کی جانب سے خطے کے بعض ممالک میں محدود حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن میں سعودی عرب اور قطر میں بعض تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ان حملوں سے تیل کی صنعت کو بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران نے خلیجی ممالک میں تیل کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تو اس سے نہ صرف خطے کی صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی صنعت بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔

پاکستان