اہم ترین

غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف یورپ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں: شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے، تاکہ اس مسئلے کو مشترکہ طور پر ختم کیا جا سکے۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز ویانا میں پاکستان–آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ دو روزہ سرکاری دورے پر موجود ہیں۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان غیر قانونی مہاجرت کے خلاف واضح اور سخت مؤقف رکھتا ہے اور اس مقصد کے لیے یورپی شراکت داروں کے ساتھ عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان، آسٹریا، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مل کر غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے رجحان کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے اس موقع پر یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پاکستان آسٹریا کی ہنرمند افرادی قوت کی ضروریات کو بین الاقوامی معیار اور سرٹیفکیشن کے مطابق پورا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو قانونی اور باوقار روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم اور یورپی یونین کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران تقریباً 24 ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپی ممالک میں داخل ہوئے۔

یہ دورہ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں کسی پاکستانی وزیرِ اعظم کا پہلا سرکاری دورۂ آسٹریا ہے۔ اس سے قبل 1992 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے آسٹریا کا دورہ کیا تھا۔

پاکستان