بھارتی گلوکار اور ریپر بادشاہ کا ہریانہوی گانا ‘ٹٹیری’ ریلیز ہونے کے بعد تنازعات کا شکار ہو گیا ہے اور اب اس معاملے میں گینگسٹر لارنس بشنوئی کے گروہ کی بھی انٹری ہو گئی ہے۔ گینگ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے گلوکار کو سنگین دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے ایسی گائیکی جاری رکھی تو اگلی بار انہیں براہِ راست گولی مار دی جائے گی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لارنس بشوئی گینگ سے منسلک مبینہ افراد رندیپ ملک اور انیل پنڈت نے ریاست ہریانیہ کے شہر پانی پت میں ایک کرنسی ایکسچینج دفتر پر ہونے والی فائرنگ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
گینگ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی مبینہ حوالہ کاروبار کرنے والوں کے خلاف ایک ٹریلر ہے۔
اسی بیان کے آخر میں گلوکار بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے اپنی گائیکی کے ذریعے ہریانہ کی ثقافت کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور پہلے بھی انہیں خبردار کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ یکم مارچ کو ریلیز ہونے والے گانے ‘ٹٹیری’ کے بول اور ویڈیو پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔ ہریانہ ویمن کمیشن نے سب سے پہلے اس گانے کے خلاف شکایت درج کرائی تھی جس میں اسے نامناسب قرار دیا گیا۔ تنازع بڑھنے کے بعد یہ گانا کئی پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا جبکہ بادشاہ نے بھی عوامی طور پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں تھا۔
اس کے باوجود تنازع ختم نہیں ہو سکا اور اب گینگ کی دھمکی کے بعد یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔










