پاکستان بھر میں عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت، جوش و خروش اور جذبۂ ایثار کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے جہاں علمائے کرام نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی فلسفے پر روشنی ڈالی اور امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
نمازِ عید کے بعد سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی کا سلسلہ شروع ہو گیا جو ایامِ تشریق تک جاری رہے گا۔ شہری گائے، بکرے، اونٹ اور دیگر جانوروں کی قربانی کرکے گوشت عزیز و اقارب، ہمسایوں اور مستحق افراد میں تقسیم کر رہے ہیں۔ مختلف فلاحی اور سماجی تنظیمیں بھی قربانی کا گوشت غریب خاندانوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر بچوں، نوجوانوں اور بڑوں میں خاصا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ نئے کپڑے پہن کر رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں جبکہ گھروں میں خصوصی پکوانوں اور باربی کیو کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں صفائی ستھرائی اور سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے اور بلدیاتی عملہ متحرک ہے تاکہ قربانی کے جانوروں کی آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگایا جا سکے اور شہریوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ ہو
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ پر قوم اور امت مسلمہ کو مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ عیدالاضحیٰ اطاعت الہٰی، صبر، وفا، اخلاص اور ایثار کا درس دیتی ہے۔ نفرت اور تقسیم کے بجائے محبت، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں، مایوسی کے اندھیروں کو خدمت، علم، محنت اور اتحاد کی روشنی سے شکست دی جاسکتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کی عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ قربانی کا جذبہ انسانیت، ایثار اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جان قربان کرنے والے شہدا قومی فخر ہیں۔


