ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنےکےلئےجانے والی ٹیم میں شامل نیپالی کوہ پیما گائیڈ چھ روز سے لاپتا رہنےکےبعد معجزانہ طور پر زندہ مل گیا۔
اے ایف پی کےمطابق حکام کے مطابق ہلیری دوا شیرپا کو جمعرات کی صبح ایورسٹ بیس کیمپ کے قریب انتہائی کمزور حالت میں ملا ۔۔ جہاں وہ رینگتے ہوئے پہنچا تھا۔
ہلیری دوا شیرپا 30 مئی کو دنیا کی بلند ترین چوٹی 8ہزاع 849 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کے بالائی حصے میں لاپتا ہوگیا تھا۔ اس کی تلاش کے لیے متعدد سرچ ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں، تاہم کئی روز تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔
تلاش اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والی کمپنی کے 8ا یکسپیڈیشن کے نمائندے پیمبا شیرپا نے بتایا کہ جب ریسکیو اہلکاروں نے اسے دیکھا تو وہ رینگتے ہوئے نیچے آرہا تھا۔ بعد ازاں اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاج کے لیے کھٹمنڈو منتقل کرنے کا انتظام کیا گیا۔
برطانوی سابق رائل میرین اور کوہ پیما کرس تھرال، جنہوں نے 29 مئی کو ہلیری دوا شیرپا کے ساتھ ایورسٹ کی چوٹی سر کی تھی، ایک روز قبل سوشل میڈیا پر اس کی ممکنہ موت پر افسوس کا اظہار کر چکے تھے۔ انہوں نے شیرپا کو پہاڑوں کا حقیقی ہیرو اور نہایت شفیق انسان قرار دیا تھا۔
کرس تھرال کے مطابق چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 7ہزار950 میٹر کی بلندی پر، جو خطرناک “ڈیتھ زون” کے قریب واقع ہے، ہلیری دوا شیرپا تھکن کے باعث رک گیا تھا۔ اس نے ساتھی کوہ پیما کو یقین دلایا کہ وہ ٹھیک ہے اور آگے بڑھنے کو کہا۔
اسی دوران کرس تھرال کو ایک پولش کوہ پیما ملا جو اضافی آکسیجن ختم ہونے اور فراسٹ بائٹ کا شکار ہونے کے باعث شدید مشکلات میں تھا۔ تھرال نے شیرپا کے بجائے اس زخمی کوہ پیما کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی آکسیجن بھی اس کے ساتھ شیئر کی۔
تھرال کے مطابق خراب موسمی حالات اور دشوار راستوں کے باعث نیچے اترنے کا سفر غیر معمولی طور پر طویل ہوگیا۔ عام طور پر دو گھنٹے میں طے ہونے والا فاصلہ 11 گھنٹوں میں مکمل ہوا، جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ہلیری دوا شیرپا کے لاپتا ہونے کے بعد سرچ ٹیمیں مسلسل اس کی تلاش میں مصروف رہیں، تاہم وہ جمعرات کی صبح تک کسی کو نظر نہیں آیا۔ حیران کن طور پر اس نے انتہائی نامساعد حالات میں خود ہی نیچے کا راستہ طے کیا اور بالآخر بیس کیمپ کے قریب پہنچ گیا۔
رواں سیزن ایورسٹ پر کوہ پیمائی کے دوران کم از کم پانچ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ نیپالی حکام کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زائد کوہ پیما اس سیزن میں چوٹی سر کرنے میں کامیاب رہے، جو اب تک کا مصروف ترین سیزن قرار دیا جا رہا ہے۔


