بھارتی ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ روبینہ دلیک آج کامیابی، شہرت اور مضبوط ارادے کی علامت سمجھی جاتی ہیں، لیکن اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہیں بے شمار مشکلات، مالی بحران، دل شکستگی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
ہماچل پردیش کے شہر شملہ میں 26 اگست 1987 کو پیدا ہونے والی روبینا دلیک کا خواب اداکارہ بننا نہیں بلکہ بھارتی سول سروس (آئی اے ایس) میں جانا تھا۔ وہ اسی مقصد کے لیے تیاری کر رہی تھیں کہ ایک آڈیشن نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور انہوں نے 2008 میں ٹی وی سیریل چھوٹی بہو سے اداکاری کے سفر کا آغاز کیا۔
ابتدائی دنوں میں روبینا کو شدید تنقید اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اپنے پہلے شوٹ کے دوران انہیں ایک ہی سین کے لیے 17 ری ٹیک دینا پڑے، جس پر ڈائریکٹر نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں واپس شملہ بھیجنے تک کی بات کہہ دی۔ اس کے علاوہ کئی مواقع پر ان کے انداز اور شخصیت کو مرکزی کردار کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا۔
مشکلات کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ 2011 میں ایک پروڈیوسر کے ساتھ مالی تنازع نے ان کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ روبینا کے مطابق ان کی ادائیگیاں روک لی گئیں اور ان پر 16 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے انہیں اپنے گھر اور گاڑیاں تک فروخت کرنا پڑیں، جبکہ ایک طویل عرصے تک وہ مالی دباؤ کا شکار رہیں۔
ذاتی زندگی میں بھی انہیں کٹھن وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اداکار اویناش سچدیو کے ساتھ تعلق ختم ہونے کے بعد وہ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس دور میں ان کے ذہن میں خودکشی کے خیالات بھی آئے، تاہم یوگا، مراقبے اور خود اعتمادی کی بدولت وہ اس مشکل مرحلے سے باہر نکلنے میں کامیاب رہیں۔
روبینا کے کیریئر کا اہم موڑ 2016 میں آیا جب انہوں نے شکتی- استیتوا کے احساس کی میں ایک ٹرانس جینڈر خاتون کا کردار ادا کیا۔ ان کی شاندار اداکاری کو ناظرین اور ناقدین دونوں نے بے حد سراہا اور یہ کردار ان کے کیریئر کی پہچان بن گیا۔
بعد ازاں انہوں نے مقبول ریئلٹی شو بگ باس 14 میں شرکت کی اور فاتح قرار پائیں۔ اسی شو کے دوران انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی میں آنے والے بحران کا بھی انکشاف کیا۔ روبینا اور ان کے شوہر ابھینو شکلا علیحدگی پر غور کر رہے تھے، تاہم شو میں ایک ساتھ وقت گزارنے کے بعد دونوں نے اپنے رشتے کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ روبینا اور ابھینو آج اپنی ازدواجی زندگی کو سیکنڈ چانس کی کامیاب مثال قرار دیتے ہیں۔


