واٹس ایپ پر اسرائیلی کمپنی کا ون کلک حملہ: میٹا عدالت پہنچ گیا

ٹیک کمپنی میٹانے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ کے خلاف امریکی وفاقی عدالت میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میٹا کا مؤقف ہے کہ این ایس او گروپ نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واٹس ایپ صارفین کو دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

الجزیرہ کے مطابق میٹا کے مطابق اس کی میسجنگ سروس واٹس ایپ نے حالیہ دنوں میں این ایس او گروپ سے منسلک نئے اسپیئر فشنگ حملوں کا سراغ لگا کر انہیں ناکام بنایا۔ یہ حملے ماضی کی ون کلک فشنگ مہمات سے ملتے جلتے تھے، جن کا مقصد صارفین کو نقصان دہ لنکس پر کلک کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔

میٹا کے مطابق ون کلک سائبر حملے میں صرف ایک نقصان دہ لنک پر کلک کرنا ہی صارف کے ڈیوائس یا اکاؤنٹ کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے، اور اس کے لیے پاس ورڈ یا دیگر معلومات درج کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ واٹس ایپ پر این ایس او گروپ کی جانب سے بنائے گئے آزمائشی اکاؤنٹس اور گروپس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب این ایس او گروپ نے فوری طور پر ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ایک امریکی عدالت نے این ایس او گروپ کو مستقل حکم امتناع کے تحت واٹس ایپ اور اس کے صارفین کو نشانہ بنانے سے روک دیا تھا۔ اگرچہ عدالت نے میٹا کو دی جانے والی ہرجانے کی رقم 167 ملین ڈالر سے کم کر کے 4 ملین ڈالر کر دی تھی، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق مستقل پابندی کا حکم این ایس او گروپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا۔

این ایس او گروپ کا مشہور اسپائی ویئر پیگاسس ماضی میں صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی شخصیات کی نگرانی کے الزامات کے باعث عالمی سطح پر تنقید کی زد میں رہا ہے۔

میٹا کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ 12 نمایاں شہری حقوق تنظیموں، سائبر سیکیورٹی محققین اور ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین نے بھی عدالت میں درخواستیں دائر کر کے این ایس او گروپ کی اپیل کی مخالفت کی اور مستقل حکم امتناع برقرار رکھنے کی حمایت کی۔