ایران سے معاہدہ دو سے تین دن میں ممکن: ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے ایک بار پھر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سے تین روز کے دوران کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

جرمن نیوز ویب سائیٹ ڈی ڈبلیو کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی جنگ بندی کو دو ماہ گزر چکے ہیں اور اس عرصے کے دوران وہ متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ دونوں ممالک کسی بڑے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

اپنے تازہ ترین بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران ایک “بہت اچھے، مضبوط اور طاقتور معاہدے” کے قریب ہیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو امریکہ کے پاس فوجی آپشن بھی موجود ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر امریکہ ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کرے اور کارروائیاں دو سے تین ہفتوں تک جاری رکھے تو ایران کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں اہم عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کئی ماہ تک بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ فوجی تصادم اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بمباری کی صورت میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں اور وہ ایسی صورتحال سے گریز کو ترجیح دیتے ہیں۔