صرف 4 سال میں اے جی آئی دنیا بدل دے گی ؟

گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈیمس ہاسابیس نے پیشگوئی کی ہے کہ 2030 تک آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس (اے جی آئی) حقیقت بن سکتی ہے، جو دنیا بھر میں انسانی زندگی، معیشت اور کام کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دے گی۔

اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ہاسابیس نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک ایسے بڑے ٹیکنالوجیکل انقلاب کے دہانے پر کھڑی ہے، جس کا اثر صنعتی انقلاب یا انٹرنیٹ کی آمد جیسا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اے آئی سسٹمز محض آغاز ہیں، جبکہ اے جی آئی انسانوں جیسی عمومی ذہانت کے قریب پہنچ جائے گی۔

اے جی آئی کیا ہے؟

آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس سے مراد ایسا اے آئی نظام ہے جو صرف مخصوص ہدایات پر کام نہ کرے بلکہ انسانوں کی طرح سمجھنے، سوچنے، سیکھنے اور مختلف حالات میں فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ موجودہ اے آئی ماڈلز مخصوص کاموں میں مہارت رکھتے ہیں، مگر اے جی آئی کئی شعبوں میں بیک وقت انسانی سطح کی کارکردگی دکھا سکے گی۔

معیشت اور کاروبار پر ممکنہ اثرات

اگر ہاسابیس کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو 2030 تک کاروباری دنیا میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔

پیداواری لاگت میں کمی

خودکار نظام اور ذہین سافٹ ویئر کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات کم کر سکتے ہیں۔

نوکریوں کی نوعیت میں تبدیلی

روایتی دفتری اور تجزیاتی کاموں میں انسانی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جبکہ نئی مہارتوں کی مانگ بڑھے گی۔

تحقیق اور جدت میں تیزی: سائنس، انجینئرنگ، طب اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں تحقیق کا دورانیہ کم اور نتائج تیز ہو سکتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے نئے مواقع

انفراسٹرکچر، چِپ سازی، ڈیٹا سینٹرز اور سافٹ ویئر پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

مالیاتی نکتہ نظر سے اے جی آئی کی تیاری کے لیے کمپنیوں کو اگلے 3 سے5 برس میں ٹیکنالوجی اپ گریڈ، افرادی قوت کی تربیت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر پر نمایاں سرمایہ کاری کرنا پڑ سکتی ہے۔

خطرات اور خدشات بھی موجود

ہاسابیس نے اس بات پر زور دیا کہ AI صرف فائدے ہی نہیں لائے گی بلکہ اس کے سماجی اور معاشی اثرات بھی گہرے ہوں گے۔ ان کے مطابق اس بحث کو صرف ٹیک کمپنیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ معاشیات دانوں، پالیسی سازوں اور فلسفیوں کو بھی اس میں شامل ہونا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اے جی آئی کے ساتھ چند بڑے خطرات بھی جڑے ہیں۔ جن میں روزگار میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اور ممکنہ بے روزگاری۔ غلط معلومات اور خودکار فیصلوں کے اخلاقی مسائل۔ سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل طاقت کے توازن میں تبدیلی اور چند بڑی ٹیک کمپنیوں کے ہاتھ میں غیر معمولی طاقت کا ارتکاز شامل ہیں۔

اے جی آئی کب آئے گی؟ ماہرین میں اختلاف

اے جی آئی کی آمد کے وقت پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں اتفاق رائے نہیں۔

ڈیمس ہاسابیس کے مطابق 2030 تک اے جی آئی متوقع ہےجبکہ اے آئی کمپنی اینتھروپک 2028 تک اے جی آئی کے امکانات ظاہر کر چکی ہے۔

ایتھروپک کا مؤقف ہے کہ موجودہ اے آئی ماڈلز بہت تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور جلد ہی سائنس، انجینئرنگ اور تحقیق جیسے شعبوں میں انسانی ماہرین سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔

اے جی آئی ابھی مستقبل کی ٹیکنالوجی سمجھی جاتی ہے، مگر بڑی ٹیک کمپنیوں کے بیانات سے واضح ہے کہ اس کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔ اگر یہ پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں تو آنے والی دہائی نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ عالمی معیشت، تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔