پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات، سندھ طاس معاہدے، دہشتگردی، ایرانی شہریوں کی واپسی، صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں اور اقلیتی امور سمیت متعدد اہم معاملات پر اپنا مؤقف ایک بار پھر واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ دہشتگردی نہیں بلکہ بھارتی قیادت میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والی ذہنیت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، کوئی پاکستان کو بنجر نہیں بنا سکتا کیونکہ پاکستان اللہ کے فضل سے ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کا رخ موڑنے، اس مقصد کے لیے بجٹ مختص کرنے اور دیگر اقدامات پر پاکستان کی گہری نظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کمی ہر پاکستانی کو متاثر کرے گی، جبکہ کوہ ہمالیہ سے نکلنے والے دریا صرف پاکستان اور بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ان دریاؤں کے معاملے میں چین بھی ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے کیونکہ یہ پانی اربوں انسانوں کی خوراک اور معیشت سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں پاکستان، بھارت اور عالمی بینک کا کردار واضح اور متعین ہے اور پاکستان اس معاملے میں اپنے تمام قانونی اور سفارتی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے بارے میں انتظامی نوعیت کے امور پر واویلا کرنے کے بجائے اپنی مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ ترجمان نے فاروق آباد کے گردوارے سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ گردوارہ مذہبی رسومات کے لیے استعمال نہیں ہو رہا تھا اور عمارت پرانی ہونے کے باعث قریبی آبادی اور دیگر عمارتوں کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔ ان کے مطابق گردوارے کو متروکہ وقف املاک بورڈ کی اجازت کے بغیر منہدم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم بورڈ نے اسی روز اس عمل کو رکوایا۔
ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کوششوں سے 22 ایرانی ملاحوں کے عملے کی رہائی ممکن ہوئی جبکہ پاکستان کی وساطت سے وطن واپس جانے والے ایرانی شہریوں کی تعداد 70 تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری جانب ترجمان نے کہا کہ بدقسمتی سے صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی، تاہم پاکستان اس معاملے پر تمام متعلقہ حکام، فورمز اور جہاز کے مالک سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ ان کے بقول خطے میں یورپی یونین کی نیول فورس بھی موجود ہے، لیکن اس نوعیت کے آپریشنز نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں اور یرغمالیوں کا معاملہ اہلخانہ کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے آپریشن غضب اللحق کے تحت انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اور جماعت الحرار کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں میں صرف دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے 29 دہشتگرد مارے گئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیاں پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔
دفتر خارجہ نے پاک بھارت قیدیوں کے معاملے پر بھی بتایا کہ پاکستان نے بھارتی جیلوں میں موجود اپنے 750 شہریوں کی فہرست بھارت کے حوالے کر دی ہے اور حکومت ان کی رہائی اور وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔ اسی طرح ترجمان نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کو لکھے جانے والے خط پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خط لکھنے والی شخصیات اپنی ذاتی حیثیت میں یہ اقدام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بنکاک اور کولمبو میں ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقاتیں نجی تھنک ٹینکس کے زیر اہتمام ہو رہی ہیں اور ان سے پاکستان کے سرکاری مؤقف میں کسی تبدیلی کا تاثر لینا درست نہیں ہوگا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں ایک نسبتاً مثبت اور نرم سفارتی پہلو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستان اب “اولیو ڈپلومیسی” بھی کرے گا۔ ان کے مطابق زیتون کی کاشت کے شعبے میں پاکستان کی بہتر کارکردگی کے باعث ملک کو انٹرنیشنل اولیو کونسل کی رکنیت ملی ہے، جو پاکستان کے زرعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر ایک اہم پیش رفت ہے۔
مجموعی طور پر دفتر خارجہ کی بریفنگ میں پاکستان نے واضح پیغام دیا کہ وہ بھارت کے آبی عزائم، دہشتگردی، علاقائی سلامتی، اقلیتوں کے تحفظ، یرغمالیوں کی رہائی اور اپنے شہریوں کے مفادات کے معاملے پر نہ صرف متحرک ہے بلکہ ہر سطح پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں سامنے لا رہا ہے۔











