شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والے نئے سیاسی ڈھانچے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عبوری صدر احمد الشرع نے پارلیمنٹ کے لیے مزید 70 ارکان نامزد کر دیے ہیں۔ ان تقرریوں کے بعد 210 رکنی عبوری عوامی اسمبلی مکمل ہو گئی ہے، جس کا پہلا اجلاس آئندہ پیر کو طلب کر لیا گیا ہے۔
شامی حکام کے مطابق نئی اسمبلی ایسے وقت میں وجود میں آ رہی ہے جب ملک 2024 میں اقتدار کی بڑی تبدیلی کے بعد ایک عبوری سیاسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اعلیٰ عدالتی کمیٹی کے سربراہ محمد طہٰ الاحمد نے پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ عوامی اسمبلی کا پہلا اجلاس اگلے ہفتے منعقد ہو گا، جسے شام کے نئے سیاسی سفر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم عبوری آئینی نظام کے تحت اس پارلیمنٹ کے اختیارات مکمل نہیں ہوں گے۔ شام میں اس وقت صدارتی طرز حکومت نافذ ہے، جس کے باعث پارلیمنٹ قانون سازی تو کر سکے گی، مگر حکومت کو اعتماد کا ووٹ لینے کی آئینی پابندی نہیں ہو گی۔ یوں ناقدین کے مطابق نئی اسمبلی کی تشکیل کے باوجود اصل طاقت کا مرکز ایوانِ صدر ہی رہے گا۔
210 رکنی اسمبلی میں سے 140 ارکان پہلے ہی علاقائی انتخابی کونسلوں کے ذریعے منتخب کیے جا چکے تھے، جبکہ باقی 70 ارکان صدر احمد الشرع نے نامزد کیے ہیں۔ صدر کی جانب سے نامزد ارکان میں 15 خواتین بھی شامل ہیں، جس کے بعد اسمبلی میں خواتین کی مجموعی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل انتخابی مرحلے میں صرف چھ خواتین کامیاب ہوئی تھیں، جس پر خواتین کی کم نمائندگی کے حوالے سے خاصی تنقید کی گئی تھی۔
نئے نامزد ارکان میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی تعداد کے بارے میں حکام نے فوری طور پر تفصیل جاری نہیں کی۔ تاہم پہلے سے منتخب ارکان میں کرد، مسیحی اور علوی برادری سمیت مختلف اقلیتوں کے نمائندے شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب نئی اسمبلی کی مجموعی ساخت میں اقلیتوں کے حقیقی کردار اور نمائندگی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
شامی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اکثریتی دروز آبادی والے صوبے السویدا کی نشستوں پر ارکان کے انتخاب کا عمل فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وہاں حالات مکمل طور پر سازگار نہ ہونے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ السویدا گزشتہ برس شدید جھڑپوں کے بعد سے مسلسل کشیدگی کا شکار ہے، جہاں حکومتی فورسز اور مقامی دروز جنگجوؤں کے درمیان خونریز تصادم ہو چکا ہے۔
دوسری طرف اس نئی پارلیمنٹ کے قیام پر تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے نائب خصوصی ایلچی برائے شام کلاڈیو کورڈونے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں تاخیر سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ شامی سیاسی حلقوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق تنظیموں نے بھی موجودہ انتخابی اور نامزدگی کے طریقہ کار پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظام سے مقننہ کی خود مختاری متاثر ہو سکتی ہے اور صدر کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے عبوری سیاسی عمل میں خواتین، مذہبی و نسلی اقلیتوں اور مختلف سماجی طبقات کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ عدلیہ کی آزادی اور انتخابی عمل کی آزاد نگرانی بھی ناگزیر ہے۔
مارچ 2025 میں نافذ کیے گئے عبوری آئین کے تحت یہ پارلیمنٹ 30 ماہ کے لیے کام کرے گی، اور مستقل آئین کی منظوری اور نئے عام انتخابات تک قانون سازی کے اختیارات اسی کے پاس ہوں گے۔ اس تناظر میں عبوری عوامی اسمبلی کو شام کے مستقبل کے سیاسی نقشے میں ایک اہم مگر متنازع مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف نئے نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، تو دوسری طرف نمائندگی، خود مختاری اور اختیارات کے سوالات اب بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔











