اہم ترین

ووٹ کی طاقت گولی پر غالب آئے گی: بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 5 جولائی 1977 کو پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ تاریخ ہے جب عوام کا مینڈیٹ بندوق کے زور پر چھینا گیا، آئین کو پامال کیا گیا، جمہوریت کو زنجیروں میں جکڑا گیا اور کروڑوں پاکستانیوں کی امیدوں کو آمریت کے اندھیرے میں دھکیل دیا گیا۔

بلاول ہاؤس کے میڈیا سیل سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے 5 جولائی کے یومِ سیاہ کے 49 برس مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا کہ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لا صرف قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا نہیں تھا بلکہ یہ عوام کے اس بنیادی حق پر حملہ تھا جس کے ذریعے وہ ووٹ کی طاقت سے اپنی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو قید کیا گیا، سیاسی بنیادوں پر مقدمات کا سامنا کرایا گیا اور بالآخر انہیں شہادت کے راستے پر دھکیل دیا گیا، مگر وہ جبر کے سامنے کبھی نہیں جھکے۔ بلاول بھٹو کے مطابق آمریت یہ سمجھتی تھی کہ وہ بھٹو کی آواز کو خاموش کر دے گی، لیکن اس کے برعکس شہید بھٹو نے پورے ملک کے ضمیر کو بیدار کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا وژن قید نہیں کیا جا سکا، ان کی آواز کو پھانسی نہیں دی جا سکی اور ایک جمہوری، ترقی پسند اور مساوات پر مبنی پاکستان کا ان کا خواب آج بھی نئی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو کو بھی زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ عوام کی شہادت کے بعد انہوں نے ملک پر مسلط بدترین حالات اور آمریت کے جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی پوری سیاسی زندگی میں پاکستانی عوام کے لیے امید، مزاحمت اور جمہوری جدوجہد کی علامت بنی رہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے ان ہزاروں جیالوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے قید و بند، تشدد، انتقام اور یہاں تک کہ شہادتیں برداشت کیں، مگر اپنے مؤقف اور جمہوری جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کے مطابق انہی قربانیوں نے دکھ کو امید، اور مزاحمت کو ایک پائیدار جمہوری تحریک میں بدل دیا۔

اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت، آزاد عدلیہ اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جمہوریت کے لیے جدوجہد صرف جمہوریت کی بحالی تک محدود نہیں تھی بلکہ جہاں بھی آئین یا عوامی مینڈیٹ کو خطرہ لاحق ہوگا، پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اپنے پیغام کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 49 برس گزرنے کے باوجود 5 جولائی آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ قومیں آمریت، جبر اور بندوق کے زور پر نہیں بلکہ جمہوریت، آئین اور عوامی خودمختاری کے ذریعے ترقی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے مشن کو آگے بڑھانا ہی ان سے حقیقی وفاداری ہے، اور یہ یقین ہمیشہ زندہ رہے گا کہ ووٹ کی طاقت، گولی کی طاقت پر غالب آکر رہے گی۔

پاکستان