ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ منگی ڈیم، کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے اور زیارت میں دہشت گردوں نے حملے کیے، جبکہ زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد مارے گئے، جن میں آج کے واقعے میں 14 دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی اور بعض واقعات میں چار میں سے تین حملہ آور افغان تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بھی قربانیاں دیں۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات میں متعدد اہلکار شہید ہوئے، جبکہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے اور افغان سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے، جس کے شواہد پاکستان متعدد بار عالمی برادری کے سامنے رکھ چکا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے امن، ترقی اور خصوصاً بلوچستان کی خوشحالی کے خلاف سازش کرنے والوں کو ہر سطح پر ناکام بنایا جائے گا۔











