بھارت میں چیف جسٹس کے نوجوانوں سے متعلق مبینہ متنازع ریمارکس کے بعد شروع ہونے والی سوشل میڈیا مہم ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل ہوگئی، جہاں لاکھوں نوجوان بے روزگاری، تعلیمی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
پبلک ریلیشنز گریجویٹ ابھیجیت دیپکے نے بتایا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کی ایک طنزیہ سوشل میڈیا پوسٹ اتنی بڑی تحریک کا آغاز بن جائے گی۔ ان کے مطابق چیف جسٹس کے اس مبینہ بیان، جس میں حکومت پر تنقید کرنے والے نوجوانوں کو “کاکروچ” اور “پیراسائٹس” سے تشبیہ دی گئی، نے انہیں شدید حیران کر دیا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ریمارکس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
دیپکے نے مئی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا، اگر تمام کاکروچ ایک ہو جائیں تو؟ یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور انہوں نے اسی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نام سے ایک علامتی پلیٹ فارم قائم کر دیا، جس کا نام حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنز سمجھا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق پلیٹ فارم کے آغاز کے صرف دو گھنٹوں میں تقریباً پانچ ہزار افراد نے رجسٹریشن کرائی، جبکہ پہلے 24 گھنٹوں میں یہ تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اب اس تحریک کے انسٹاگرام پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں، جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے فالوورز سے بھی زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔
یہ تحریک اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ دیپکے، جو جون میں امریکہ سے واپس آئے، اس وقت نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر مسلسل دھرنا دے رہے ہیں۔
تحریک کا بنیادی مطالبہ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ طبی داخلہ امتحانات سمیت مختلف قومی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کے واقعات اور تعلیمی نظام کی ناکامی نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔
مظاہروں میں شریک دہلی یونیورسٹی کی طالبہ انجلی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج ابتدا میں ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ تھا، لیکن اب یہ گزشتہ ایک دہائی سے نوجوانوں میں جمع ہونے والے غصے کی علامت بن چکا ہے۔
دوسری جانب معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک بھی احتجاج کے حق میں میدان میں آ گئے ہیں اور 28 جون سے علامتی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی حکومت کو نوجوانوں کی آواز سننی چاہیے۔
ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ ان کا ارادہ اس تحریک کو سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا نہیں، بلکہ وہ اسے نوجوانوں کے مسائل، تعلیمی اصلاحات، امتحانی شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب کے لیے ایک عوامی مہم کے طور پر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
بھارت میں بڑھتی بے روزگاری، تعلیمی بحران اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی کے تناظر میں اس تحریک کو حالیہ برسوں کی نمایاں عوامی مزاحمتی مہم قرار دیا جا رہا ہے۔











