امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔ امریکا نے مسلسل ساتویں رات ایران میں مختلف فوجی اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو وہ “مکمل جارحانہ آپریشن” دوبارہ شروع کرے گا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل بھی شدید متاثر رہی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے ایران میں نگرانی کے مراکز، فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر، زیر زمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے مطابق کویت میں العدیری کیمپ اور علی السالم ایئر بیس جبکہ اردن میں الازرق بیس کے ایندھن کے ذخائر کو ہدف بنایا گیا۔
کویت کی وزارت خارجہ نے ایران پر شہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک آئل تنصیب اور بجلی و پانی کے پلانٹ پر حملوں سے شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہوا۔ سرکاری آئل کمپنی نے بھی حملے میں نقصان اور زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
بحرین کی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کی ایک لہر کو ناکام بنایا، جبکہ دارالحکومت منامہ میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی استعمال کے ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین اور قطر نے ایرانی میزائل مار گرانے کا اعلان کیا۔
ادھر اردن کی فوج نے کہا کہ اس نے 10 ایرانی میزائل تباہ کر دیے اور کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
آبنائے ہرمز میں بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کی تردید کی۔ ایران نے یہ بھی کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار بحری جہاز روک دیے ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی صوبہ ہرمزگان میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، جبکہ یزد سمیت ملک کے کئی جنوبی صوبوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں لبنان میں جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ علاقوں سے انخلا سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بات چیت متوقع ہے۔
اسی دوران ایران کے سینئر فوجی عہدیدار میجر جنرل محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران اب صرف جوابی کارروائیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ “مکمل جارحانہ آپریشن” شروع کرے گا، اور کوئی بھی سیاسی سرحد محفوظ نہیں رہے گی۔











