پاکستان بیورو شماریات کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں غذائی اشیاء کی درآمدات میں 11.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اسی عرصے میں غذائی برآمدات میں 29.5 فیصد کی نمایاں کمی سامنے آئی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں غذائی اشیاء کی مجموعی درآمدات 9 ارب 15 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران یہ حجم 8 ارب 19 کروڑ ڈالر تھا۔
غذائی درآمدات میں پام آئل سرفہرست رہا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پام آئل کی درآمدات 11.5 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 3 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال میں پام آئل کی درآمدات تقریباً 3 ارب 39 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔
دوسری جانب دالوں کی درآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں دالوں کی درآمدات 18 فیصد کم ہو کر 83 کروڑ ڈالر رہ گئیں، جبکہ مالی سال 2024-25 میں دالوں کی درآمدات ایک ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
ادھر غذائی اشیاء کی برآمدات میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں غذائی برآمدات 29.5 فیصد کمی کے بعد 5 ارب ڈالر رہیں، جبکہ مالی سال 2024-25 میں ان کا حجم 7 ارب 10 کروڑ ڈالر تھا۔
رپورٹ کے مطابق چاول کی برآمدات میں بھی 31.6 فیصد کمی ہوئی۔ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے 2 ارب 29 کروڑ ڈالر مالیت کا چاول برآمد کیا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں چاول کی برآمدات 3 ارب 35 کروڑ ڈالر رہی تھیں۔
اسی طرح سبزیوں کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں سبزیوں کی برآمدات 55 فیصد کم ہو کر 16 کروڑ 27 لاکھ ڈالر رہ گئیں، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ برآمدات 37 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
پاکستان بیورو شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران غذائی درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں نمایاں کمی نے تجارتی توازن پر دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔










