آج کے دور میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے باوجود اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈز اب بھی روزمرہ بینکاری کا اہم ذریعہ ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اے ٹی ایم مشین کارڈ کو داخل کرتے ہی اسے کیسے پہچان لیتی ہے اور آپ کے اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کی اجازت کیسے ملتی ہے؟
اصل میں اے ٹی ایم کارڈ میں آپ کے بینک اکاؤنٹ کا مکمل ڈیٹا یا موجودہ بیلنس محفوظ نہیں ہوتا۔ کارڈ پر نظر آنے والے نمبر، نام اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ کے علاوہ اس میں موجود چپ یا میگنیٹک اسٹرپ کارڈ سے متعلق ضروری معلومات محفوظ رکھتی ہے۔
میگنیٹک اسٹرپ کیسے کام کرتی ہے؟
پرانے اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈز میں میگنیٹک اسٹرپ کا استعمال زیادہ عام تھا۔ کارڈ کے پچھلے حصے پر موجود سیاہ پٹی میں مخصوص طریقے سے ڈیٹا ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
جب کارڈ کو کسی مشین میں سوائپ کیا جاتا ہے تو مشین اس اسٹرپ کو پڑھ کر کارڈ سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرتی ہے۔ یہ معلومات پھر بینک کے سسٹم تک پہنچتی ہیں تاکہ لین دین کی جانچ اور کارروائی مکمل کی جاسکے۔
ای ایم وی چپ نے سکیورٹی کیسے بڑھائی؟
جدید ڈیبٹ اور اے ٹی ایم کارڈز میں عموماً ای ایم وی چپ استعمال ہوتی ہے، جو ایک چھوٹے کمپیوٹر کی طرح کام کرتی ہے اور لین دین کو زیادہ محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ای ایم وی چپ ہر ٹرانزیکشن کے لیے منفرد سکیورٹی کوڈ تیار کرسکتی ہے، جس کی وجہ سے کارڈ کی معلومات کو نقل کرکے فراڈ کرنے کا خطرہ روایتی میگنیٹک اسٹرپ کے مقابلے میں کم ہوجاتا ہے۔
اے ٹی ایم کارڈ کو کیسے پہچانتا ہے؟
جب صارف کارڈ اے ٹی ایم میں داخل کرتا ہے تو مشین سب سے پہلے چپ یا میگنیٹک اسٹرپ سے ضروری معلومات پڑھتی ہے۔ اس کے بعد یہ معلومات بینک کے سرور تک بھیجی جاتی ہیں۔
بینک کا نظام چیک کرتا ہے کہ کارڈ درست اور فعال ہے یا نہیں اور اس سے متعلق اکاؤنٹ موجود ہے یا نہیں۔ ابتدائی تصدیق کے بعد اے ٹی ایم صارف سے پن درج کرنے کو کہتا ہے۔
پن کے بعد کیا ہوتا ہے؟
صارف جب اے ٹی ایم میں پن درج کرتا ہے تو یہ معلومات محفوظ طریقے سے انکرپٹ ہوکر بینک کے نظام تک پہنچتی ہے۔ بینک کا سرور پن کی تصدیق کرنے کے ساتھ دیگر ضروری جانچ بھی کرتا ہے۔
اگر تصدیق کامیاب ہوجائے تو بینک کا سرور اے ٹی ایم کو ٹرانزیکشن مکمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے بعد صارف رقم نکالنے، بیلنس چیک کرنے یا دستیاب دیگر بینکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کی سکیورٹی صرف پن تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ای ایم وی چپ، انکرپشن، پن ویری فکیشن اور بینک سرور کی ریئل ٹائم جانچ سمیت کئی حفاظتی مراحل ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔
یوں اے ٹی ایم مشین دراصل آپ کے کارڈ میں موجود معلومات اور بینک کے سرور کے درمیان محفوظ رابطے کے ذریعے ٹرانزیکشن مکمل کرتی ہے، جبکہ اکاؤنٹ کا اصل بیلنس اور مکمل بینکاری معلومات بینک کے نظام میں محفوظ رہتی ہیں، کارڈ میں نہیں











