اہم ترین

انگلینڈ نے ہر شعبے میں ہمیں آؤٹ کلاس کیا: سلمان آغا کا اعتراف

پاکستان کے قائم مقام ٹیسٹ کپتان سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے ہاتھوں پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور بھاری مارجن سے شکست کے بعد ٹیم کی ناقص کارکردگی کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگلینڈ نے پاکستان کو بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ، تینوں شعبوں میں آؤٹ کلاس کیا۔

لیڈز میں شکست کے بعد پریس کانفرنس کے دوران سلمان آغا نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کسی بھی شعبے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کر سکی اور یہی کمزوری شکست کی بنیادی وجہ بنی۔ ہم کسی بھی شعبے میں مستقل مزاج نہیں تھے۔

ان کے مطابق انگلینڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے ہوئے مستقل توجہ اور یکسوئی انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہاں گیند کو دائیں یا بائیں جانب حرکت ملتی ہے، لیکن پاکستانی ٹیم پوری اننگز کے دوران وہ فوکس برقرار نہیں رکھ سکی۔
انگلینڈ تینوں دن پاکستان سے بہتر ٹیم ثابت ہوا۔

ہیڈنگلے میں شکست پاکستان کے لیے محض ایک اور ناکامی نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل خراب کارکردگی کی ایک اور مثال بن گئی ہے۔

پاکستان نے اپنی آخری 19 ٹیسٹ میچوں میں 14ویں شکست کا سامنا کیا، جبکہ بیرون ملک آخری 10 ٹیسٹ میں یہ نویں شکست تھی۔ سلمان آغا نے بھی اعتراف کیا کہ پاکستان کی بیرون ملک کارکردگی تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم نے اس مسئلے پر ہر میٹنگ میں بات کی ہے اور اس صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے۔

سلمان آغا نے شکست کی ایک وجہ انگلینڈ کے حالات سے مناسب طور پر ہم آہنگ نہ ہونے کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بالکل مختلف موسمی اور پچ کے حالات سے انگلینڈ آیا اور ٹیم کو ان حالات میں خود کو ڈھالنے کے لیے مناسب وقت نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ ایشیائی ٹیموں کے لیے انگلینڈ میں ابتدائی دن مشکل ہوتے ہیں اور ایسے حالات کو صرف ایک ہفتے میں سمجھنا آسان نہیں۔

پاکستان کے لیے ایک مثبت خبر اسٹار بیٹر بابر اعظم کی انگلی کی انجری سے صحت یابی ہے۔ قائم مقام کپتان سلمان آغا نے کہا کہ بابر اعظم کی واپسی ٹیم کے لیے انتہائی اہم ہوگی اور وہ انہیں دوبارہ کپتانی سونپنے میں بہت خوش ہوں گے۔

سلمان آغا نے کہا کہ بابر اعظم ہمارے بہترین بلے باز اور دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ ہم یقینی طور پر انہیں ٹیم میں چاہتے ہیں اور انہیں کپتانی واپس دینا چاہتے ہیں۔

سلمان آغا نے پاکستانی فاسٹ باؤلنگ اٹیک کی رفتار اور آپشنز کی کمی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی باؤلر کے پاس رفتار ہے تو وہ کسی بھی کنڈیشن میں ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کے پاس ایسا باؤلر نہیں جو مستقل طور پر 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے گیند کر سکے۔

سلمان آغا نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کو فوری بہتری درکار ہے۔ لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ اس بات کا پہلا بڑا امتحان ہوگا کہ پاکستانی ٹیم اپنی اس شکست سے سبق سیکھ کر سیریز میں واپسی کر سکتی ہے یا نہیں

پاکستان