امریکا اور ایران کے درمیان جنگ تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان نہ جنگ بندی کی جانب کوئی واضح پیش رفت ہو رہی ہے اور نہ ہی باضابطہ امن مذاکرات بحال ہوئے ہیں۔ اس دوران واشنگٹن نے ایران کے خلاف نئی اور انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے، جبکہ تہران نے امریکی اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی رائیٹرز کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔ امریکی حکام نے ان پابندیوں کو “تاریخ کی سخت ترین پابندیاں” قرار دیا ہے۔
نئی امریکی پابندیوں کا ممکنہ اثر صرف ایران تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایران کے اہم تجارتی شراکت دار بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جن میں سب سے اہم چین ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ایران سے سمندری راستے سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ چین خریدتا تھا۔ واشنگٹن بیجنگ پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایران کو اقتصادی سہارا فراہم کرنے سے گریز کرے۔
ایران نے ان ممکنہ ثانوی پابندیوں کو مسترد کردیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے خلاف اس نوعیت کی پابندیاں عائد کرنا اقوام متحدہ کے آزاد رکن ممالک پر امریکا کی “ماورائے علاقائی خودمختاری مسلط کرنے” کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا ہے کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کے خیال میں ایران ابھی “درست معاہدہ” کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ٹرمپ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ جو ممالک ایران کو کسی بھی قسم کا “لائف لائن” یا معاشی سہارا فراہم کریں گے، انہیں اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آرہے۔
آبنائے ہرمز میں تیل کی آمدورفت تقریباً رک گئی
جنگ کا سب سے بڑا عالمی اقتصادی اثر آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔ ایران اس اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کو روکنے کی دھمکی دے رہا ہے اور کہہ چکا ہے کہ غیر مجاز تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیکڑوں بحری جہاز آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہزاروں ملاح نقل و حرکت رکنے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
جمعرات کو صرف چار کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ ان میں کوئی بڑا خام تیل بردار جہاز یا ایل این جی ٹینکر شامل نہیں تھا۔
جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ 20 ملین بیرل سے زیادہ تیل گزرتا تھا، جو دنیا میں استعمال ہونے والے تقریباً ہر پانچ بیرل میں سے ایک کے برابر ہے۔
اب امریکی توانائی کے وزیر کرس رائٹ کے مطابق امریکی فوج کی مدد سے آبنائے ہرمز کے ذریعے گزشتہ سات دن کی اوسط بنیاد پر تقریباً 8 ملین بیرل یومیہ تیل منتقل ہوا۔
یعنی تیل کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوچکی ہے۔
یہ صورتحال عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔
جنگ کے دوران امریکی حملوں نے ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو بھی بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس کے باوجود تہران کے پاس اب بھی میزائل اور ڈرونز کی اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈال سکے اور خطے میں اپنے مخالفین کو نشانہ بنا سکے۔
اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ شروع کرتے وقت صدر ٹرمپ نے ایران کے جو اہم مقاصد بیان کیے تھے، ان میں ایرانی جوہری پروگرام کو ختم کرنا اور ایسے حالات پیدا کرنا شامل تھا جن میں ایرانی عوام ملک کی مذہبی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
تاہم تقریباً چھ ماہ بعد بھی ان اہداف کے حصول کے بارے میں صورتحال واضح نہیں۔
ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ حالت خاص طور پر غیر یقینی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار 2025 سے ایران میں مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکے۔
جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنگ کے پہلے ہی روز ایرانی اسکول کے 168 بچے بھی ہلاک ہوئے۔
امریکا نے اپنے 750 سے زیادہ فوجیوں کے زخمی ہونے اور 18 فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
دوسری جانب ایرانی معیشت بھی شدید دباؤ میں ہے۔ امریکی حملوں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹ اور تجارتی سرگرمیوں میں کمی نے تہران کے لیے معاشی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
ایرانی قیادت میں بھی سفارتی حل کی آواز
ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے دشمن کی دھمکیوں کا جواب “کچل دینے والے، سزا دینے والے اور تباہ کن ردعمل” سے دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر جنگ ختم ہونی ہے تو اسے ایسے وقت ختم کرنا بہتر ہوگا جب ایران طاقت اور وقار کے ساتھ موجود ہو اور دنیا اس کی کامیابی کو تسلیم کرے۔
معیشت بچانا بھی ایران کے لیے بڑا چیلنج
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں ایران کے اہم مذاکرات کار بھی ہیں، نے ملک کی معاشی مشکلات کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے ایرانی اور عراقی تاجروں سے گفتگو میں کہا کہ صرف فوجی طاقت کسی ملک کو زندہ رکھنے کے لیے کافی نہیں؛ اگر عوام بھوکے ہوں، مالی گردش نہ ہو، اقتصادی ترقی اور قومی پیداوار نہ ہو تو ملک کے لیے زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
پیر کو امریکی نئی پابندیوں کا اعلان اس بحران میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر چین سمیت ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار بھی امریکی ثانوی پابندیوں کی زد میں آتے ہیں تو تہران کی پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تیل کی آمدورفت محدود رہنے سے عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یوں امریکا اور ایران کی جنگ اب صرف دونوں ممالک کا معاملہ نہیں رہی بلکہ عالمی تیل سپلائی، چین امریکا تعلقات اور بین الاقوامی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا بحران بنتی جارہی ہے۔











