امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مکمل طور پر تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی واشنگٹن نے تہران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی معاشی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کرلی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سخت لہجے میں لکھا کہ ایران مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران کے خلاف اقتصادی ڈی ڈے شروع ہونے کا دعویٰ کیا۔
بیسنٹ کے مطابق امریکا ایران کے خلاف ایک بڑی مالیاتی کارروائی شروع کر رہا ہے اور جو ممالک تہران کی مدد جاری رکھیں گے انہیں عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جنگ کے بعد معاشی دباؤ میں اضافہ
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے ہیں، تاہم دونوں فریق تعطل کا شکار ہیں۔ امن مذاکرات بھی رکے ہوئے ہیں جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بدستور بند کر رکھا ہے۔ امریکا دوسری جانب ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنگ کے معاشی اثرات اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اندرونی سیاسی دباؤ کے باعث ٹرمپ نے فوجی کارروائی کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے پر زیادہ توجہ مرکوز کر دی ہے۔
بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کردیا، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کیں اور ایرانی جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایران نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کا فوجی دباؤ سے معاشی جنگ کی طرف منتقل ہونا دراصل امریکی ناکامی کا اعتراف ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کرچکا ہے تو اسے ایران کے خلاف تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی حملے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی برآمدات متاثر
لڑائیکے دوران سب سے بڑا تنازع آبنائے ہرمز پر مرکوز رہا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ سمندری نقل و حمل کے ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے ایران کی تیل برآمدات جنگ سے پہلے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تھیں جو اگست کے وسط تک کم ہو کر تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔
ایران کئی دہائیوں سے عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ پیچیدہ مالیاتی نیٹ ورکس کے ذریعے، بالخصوص چین کو، تیل فروخت کرتا رہا ہے۔ واشنگٹن اب ان ممالک اور اداروں پر بھی دباؤ بڑھانے کا عندیہ دے رہا ہے جو ایران کے ساتھ تجارت یا مالی تعاون جاری رکھتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی کوششوں میں تعاون کرنے والے ممالک کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی عوام مزید معاشی مشکلات سے دوچار
امریکی دباؤ اور جنگ کے اثرات کے باعث عام ایرانی شہری بھی شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی طویل عرصے سے مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ملک کو معاشرتی اور معاشی سطح پر متعدد مسائل کا سامنا ہے اور حکومت مہنگائی، روزگار اور عوام کے معاشی مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی شہری جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ تہران کی ایک فارماسسٹ سارہ حسن بیگی نے کہا کہ موجودہ صورتحال عوام کے لیے انتہائی مشکل ہوچکی ہے اور ایران کو مذاکرات میں سمجھوتے کی طرف جانا چاہیے۔
پاکستان اور اومان کی سفارتی کوششیں
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کر چکا ہے، جبکہ پاکستانی آرمی چیف کی ایران آمد متوقع ہے۔
اومان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی بھی ایران کا دورہ کرنے والے ہیں۔ مسقط اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو منظم کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت متوقع ہے۔











