پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میں کامیاب واپسی کے باوجود انگلینڈ کے کپتان جو روٹ آف دی فیلڈ تنازعات پر شدید برہم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑی مسلسل ایسی ’’احمقانہ غلطیاں‘‘ کررہے ہیں جو میدان میں ٹیم کی کارکردگی کو متاثر کررہی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق انگلینڈ کے فاسٹ بولر برائیڈن کارس کو ڈربی کے ایک نائٹ کلب میں پیش آنے والے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد کرکٹ ریگولیٹر کو ریفر کردیا گیا ہے۔
کارس کو پاکستان کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ سے بھی باہر کردیا گیا ہے۔
جو روٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال سے انتہائی مایوس ہیں کیونکہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے خلاف شاندار فتح کے بعد گفتگو کھیل کے بجائے ایک غیر متعلقہ واقعے پر ہورہی ہے۔
انگلینڈ کی ٹیم نے گزشتہ ہفتے روٹ کی قیادت میں پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی۔
روٹ کے مطابق مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ بار بار میدان سے باہر ایسی غلطیاں کرنا ہے جو انگلینڈ کرکٹ کی ساکھ کو متاثر کررہی ہیں۔
انہوں نے کھلاڑیوں پر کرفیو عائد کرنے کو مستقل حل قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں ایسی مضبوط ثقافت قائم کرنے کی ضرورت ہے جس پر کھلاڑی اور شائقین دونوں فخر کرسکیں۔
دوسری جانب سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایک کھلاڑی کو ایسی سزا ملنی چاہیے جس سے پوری ٹیم کو واضح پیغام جائے کہ آف دی فیلڈ بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی۔
برائیڈن کارس کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انگلینڈ کی ٹیم پہلے ہی گزشتہ سال نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے دوروں کے دوران شراب نوشی اور نائٹ کلب سے متعلق کئی تنازعات کا سامنا کرچکی ہے۔











