دمشق: شام میں ایک بڑی سیاسی و عسکری پیش رفت کے طور پر کرد قیادت والی شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے خود کو ایک آزاد عسکری قوت کے طور پر تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عبدی نے کہا ہے کہ گروپ کا شامی فوج میں انضمام مکمل ہوچکا ہے۔
مظلوم عبدی نے منگل کو دمشق کے صدارتی محل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس ڈی ایف کا آزاد فوجی قوت کے طور پر مشن اب ختم ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام شام کی تاریخ میں ایک اہم باب کے اختتام اور امن، استحکام اور تعمیر نو کے نئے دور کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ میدان جنگ سے تعمیر اور ہتھیاروں کے دور سے امن کے دور کی جانب منتقلی چاہتے ہیں۔
ایس ڈی ایف اور صدر احمد الشرع کی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں کردوں کے ثقافتی، شہری اور تعلیمی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ مظلوم عبدی کے مطابق کردوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق بھی تسلیم کیا گیا ہے اور رواں سال کرد زبان میں تعلیم کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
ایس ڈی ایف نے شام میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران امریکا کے اہم اتحادی کے طور پر کردار ادا کیا تھا۔ گروپ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں ایک وسیع خودمختار خطے پر بھی عملی کنٹرول قائم کر رکھا تھا۔
تاہم دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور دمشق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ جنوری میں شامی حکومت کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایس ڈی ایف اپنے زیر کنٹرول بیشتر علاقے سے محروم ہوگئی، جس کے بعد اس کے شامی ریاست میں انضمام کے لیے مذاکرات شروع ہوئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انضمام کا عمل سات ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ ایس ڈی ایف کے بھاری ہتھیاروں اور خواتین جنگجوؤں پر مشتمل وائی پی جے کے مستقبل سمیت متعدد معاملات حل طلب تھے۔
وائی پی جے کا مؤقف تھا کہ اس کے جنگجوؤں کو وزارت دفاع میں پیشہ ور فوجیوں کے طور پر شامل کیا جائے، جبکہ دمشق انہیں وزارت داخلہ کے تحت پولیس میں شامل کرنے کی پیشکش کررہا تھا۔
شام کے لیے امریکی نمائندے ٹام بارک نے ایس ڈی ایف کے انضمام کو سراہتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی قیادت نے ایس ڈی ایف کے شامی ریاست میں منظم انضمام کی راہ ہموار کی۔
بارک کے مطابق معاہدے میں کرد زبان میں تعلیم کے حق کے ساتھ مظلوم عبدی اور شمال مشرقی شام میں کرد قیادت والی انتظامیہ کی سربراہ الہام احمد کے لیے شامی حکومت میں اہم کردار بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
دمشق کی جانب سے ان تقرریوں کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی، تاہم مقامی میڈیا کے مطابق مظلوم عبدی کو صدر احمد الشرع کا مشیر جبکہ الہام احمد کو پارلیمانی انتظامیہ میں ذمہ داری دی جاسکتی ہے۔
مظلوم عبدی نے کہا کہ وہ ایسی متحد اور مستحکم شام کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں کرد، عرب، ترکمان اور آشوری سمیت تمام قومیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو اور ملک کے نوجوانوں کو باوقار مستقبل فراہم کیا جاسکے۔
ایس ڈی ایف کی تحلیل اور شامی فوج میں انضمام شام کے شمال مشرق میں طاقت کے توازن اور کردوں کی سیاسی و عسکری حیثیت کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی قرار دی جارہی ہے، تاہم اس معاہدے پر عملی طور پر مکمل عمل درآمد اب بھی اہم مرحلہ ہوگا۔











