انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری نے امریکی عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ میٹا نے نوعمر صارفین کے لیے متعارف کرائے گئے حفاظتی فیچرز کی تشہیر کرتے ہوئے ان کے ابتدائی طور پر انتہائی کم استعمال کی شرح عوام کے سامنے ظاہر نہیں کی تھی۔
میٹا اس وقت امریکا کی 29 ریاستوں کی جانب سے دائر مقدمے کا سامنا کر رہا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے بچوں کو اپنی سوشل میڈیا مصنوعات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے پر آمادہ کرنے، ان کا ڈیٹا جمع کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی مصنوعات کو دانستہ طور پر اس انداز میں ڈیزائن کیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی وکلا نے موسری سے انسٹاگرام کے دو حفاظتی فیچرز ”ٹیک اے بریک “ اور ”کوائیٹ موڈ “ کے بارے میں سوالات کیے۔ ”ٹیک اے بریک “ صارفین کو اسکرولنگ سے وقفہ لینے کی یاد دہانی کراتا ہے، جبکہ ”کوائیٹ موڈ “ مخصوص اوقات میں، خصوصاً رات کے وقت، اطلاعات کو خاموش کرتا ہے۔
موسری نے بتایا کہ ”ٹیک اے بریک “ کے ابتدائی استعمال کی شرح صرف 1 سے 2 فیصد اکاؤنٹس تک رہی تھی، لیکن میٹا نے ان اعداد و شمار کو اپنے عوامی اعلانات میں شامل نہیں کیا۔ ان کے مطابق بعد میں یہ حفاظتی سہولیات 2024 میں متعارف کرائے گئے ٹین اکاؤنٹسمیں بطور ڈیفالٹ فعال کر دی گئیں۔
عدالت میں پیش کیے گئے میٹا کے اندرونی دستاویزات کے مطابق ”ٹیک اے بریک “ کی شرحِ اختیار 1.8 فیصد جبکہ ”کوائیٹ موڈ “ کی 8.7 فیصد رہی۔ موسری نے اس کم شرح کو ”مایوس کن“ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعد کے عرصے میں فیچرز کا استعمال نمایاں طور پر بہتر ہوا۔
موسری نے 2021 میں امریکی کانگریس کے سامنے گواہی کے دوران نوعمر صارفین کے لیے نئے حفاظتی اقدامات کی بات بھی کی تھی۔ اس وقت میٹا کی ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا تھا کہ ابتدائی تجربات میں یاد دہانی فعال کرنے والے 90 فیصد سے زائد نوعمر اسے برقرار رکھتے تھے۔ تاہم عدالت میں واضح ہوا کہ یہ شرح صرف ان صارفین سے متعلق تھی جنہوں نے پہلے ہی فیچر فعال کر لیا تھا، جبکہ مجموعی نوعمر اکاؤنٹس میں اس کی رسائی کہیں کم تھی۔
مقدمے میں میٹا کے سابق ملازمین نے بھی حفاظتی فیچرز کی افادیت پر سوالات اٹھائے۔ سابق انجینئرنگ ڈائریکٹر آرتورو بیخار نے گواہی دی کہ ان کے تجربے میں ”ٹیک اے بریک “ ایسا فیچر تھا جو مؤثر طور پر ناکام ہونے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
ایک سابق ڈیٹا سائنس دان جارج وولیچینکو کے مطابق حفاظتی فیچرز کی کم شرحِ اختیار ”بہت کم اور مایوس کن“ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کم عمر صارفین کے لیے ”کوائیٹ موڈ “ کو بطور ڈیفالٹ فعال نہ کرنے سے اس کا استعمال محدود رہا، جبکہ اسے پہلے سے فعال کرنے سے صارفین کے پلیٹ فارم پر گزارے جانے والے وقت پر منفی اثر پڑ سکتا تھا۔
میٹا کا کاروباری ماڈل اشتہارات پر مبنی ہے، اس لیے صارفین کا پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزارنا کمپنی کی آمدنی کے لیے اہم ہے۔ ریاستی حکام کا مؤقف ہے کہ یہی کاروباری مفاد بچوں اور نوعمر صارفین کے تحفظ کے اقدامات کے حوالے سے کمپنی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوا۔
مقدمے کی سماعت ستمبر کے آخر تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری بدھ کو بھی گواہی جاری رکھیں گے، جبکہ میٹا کے بانی اور چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کی بھی گواہی متوقع ہے۔ اگر میٹا کو مقدمے میں شکست ہوتی ہے تو امریکی ریاستیں تقریباً 200 ارب ڈالر جرمانے کا مطالبہ کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں کمپنی کے کاروباری طریقۂ کار میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔











