آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال میں عالمی سطح پر منفرد پابندی عائد کیے جانے کے باوجود دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ والدین کے لیے نگرانی فراہم کرنے والی کمپنی کسٹوڈیو کے اعداد و شمار کے مطابق انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے استعمال میں ابتدائی کمی کے بعد اب مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
آسٹریلیا نے گزشتہ دسمبر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دنیا کا پہلا قانون نافذ کیا تھا۔ پابندی کے فوری بعد بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمی میں مختلف پلیٹ فارمز پر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ استعمال دوبارہ پابندی سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ رہا ہے۔
کسٹوڈیو کے مطابق 13 سے 15 سال کے بچوں میں ٹک ٹاک استعمال کرنے والوں کی شرح اب 25.9 فیصد ہے، جو پابندی سے پہلے کی شرح سے صرف ایک فیصد سے کچھ زیادہ کم ہے۔ اسی طرح 10 سے 12 سال کے بچوں میں ٹک ٹاک کا استعمال پابندی سے قبل کی سطح سے صرف 0.06 فیصد پوائنٹ کم رہ گیا ہے۔
کمپنی کی عالمی آن لائن سیفٹی ماہر یاسمین لندن کے مطابق بچے پابندی سے بچنے کے لیے وی پی این استعمال کر سکتے ہیں یا اپنی عمر کے بارے میں غلط معلومات دے سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پابندیاں مؤثر طور پر نافذ نہ ہو رہی ہوں اور بچے اب بھی براہ راست ان ایپس تک رسائی حاصل کر رہے ہوں۔
اعداد و شمار میں انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ کے استعمال میں بھی 10 سے 12 اور 13 سے 15 سال کے دونوں گروپس میں اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب بچے واٹس ایپ جیسے میسجنگ پلیٹ فارم کا بھی زیادہ استعمال کر رہے ہیں، جو موجودہ پابندی کے دائرے میں شامل نہیں۔
کسٹوڈیو نے یہ ڈیٹا آسٹریلوی بچوں کے سوشل میڈیا ایپس کے گمنام ماہانہ استعمال کا تجزیہ کرکے تیار کیا۔ اس میں ان بچوں کو شمار کیا گیا جنہوں نے کسی مخصوص ایپ کو ایک ماہ کے دوران کم از کم ایک مرتبہ مسلسل پانچ منٹ سے زیادہ استعمال کیا۔
آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد بچوں کو آن لائن بدمعاشی اور ایسے ”شکاری الگورتھمز“ سے تحفظ دینا ہے جو انہیں زیادہ سے زیادہ مواد دیکھنے اور پلیٹ فارم پر وقت گزارنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔
تاہم جون میں شائع ہونے والی ایک آسٹریلوی تحقیق میں بھی اس بات کے شواہد محدود پائے گئے تھے کہ پابندی کے نتیجے میں نوجوانوں نے مجموعی طور پر سوشل میڈیا سے دوری اختیار کی ہے۔











