بالی ووڈ اداکارہ کِریتی سینن کے رکشا بندھن کے خصوصی اشتہار پر سوشل میڈیا پر جاری تنازع کے بعد زیورات کے برانڈ گیوا نے اشتہار تمام پلیٹ فارمز سے واپس لے لیا ہے۔ اشتہار میں کِریتی سینن کو بریلیٹ طرز کے بلاؤز اور کیپ میں دکھایا گیا تھا، جبکہ ایک منظر میں وہ اپنے پالتو کتے کو راکھی باندھتی نظر آئی تھیں۔ ان دونوں پہلوؤں پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی گئی۔
رکشا بندھن ہندو مذہب اور بھارتی ثقافت کا ایک اہم تہوار ہے، جس میں بہن اپنے بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتی ہے اور بھائی اس کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ اشتہار میں اسی تصور کو پالتو جانور تک بڑھانے کی کوشش کی گئی، جس پر بعض صارفین نے اعتراض کیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ روایتی تہوار کے اشتہار میں کِریتی کا لباس اور کتے کو راکھی باندھنے کا منظر موزوں نہیں تھا۔
سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد گیوا نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ برانڈ بھارتی ثقافت، روایات اور تہواروں کا مکمل احترام کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کا مقصد رکشا بندھن کی خوشیوں کو پورے خاندان کے ساتھ منانے کے تصور کو پالتو جانوروں تک بھی وسعت دینا تھا۔ تاہم اگر حالیہ اشتہار سے معاشرے کے کسی طبقے کے جذبات غیر ارادی طور پر مجروح ہوئے ہیں تو اس پر کمپنی کو افسوس ہے۔
گیوا نے کہا کہ احترام کے پیش نظر اشتہار کو تمام پلیٹ فارمز سے واپس لے لیا گیا ہے اور کسی مذہبی یا ثقافتی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اس کا مقصد نہیں تھا۔
کِریتی سینن نے تنقید کا کیا جواب دیا؟
اشتہار پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد کِریتی سینن نے بھی سوشل میڈیا پر ناقدین کو جواب دیا تھا۔ اداکارہ نے سوال اٹھایا کہ خواتین کو یہ بتانا کب بند کیا جائے گا کہ انہیں کیا پہننا چاہیے۔
کِریتی کا مؤقف تھا کہ ثقافت اور روایات انسان کے دل میں ہوتی ہیں، لباس کی نیک لائن میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رکشا بندھن بنیادی طور پر تحفظ کے وعدے اور دعا کا تہوار ہے اور ان کے نزدیک یہ احساس ان کے پالتو کتوں تک بھی پہنچتا ہے، کیونکہ وہ بھی خاندان کا حصہ ہیں۔
کنگنا رناوت نے بھی اعتراض کیا
اس تنازع میں اداکارہ اور سیاست دان کنگنا رناوت بھی شامل ہوئیں۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے اشتہار پر تنقید کرتے ہوئے اسے بظاہر جان بوجھ کر عجیب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی تہواروں کی وقار، سادگی اور روایتی حیثیت کو جدیدیت کے نام پر تبدیل یا متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔
یوں یہ معاملہ محض ایک اشتہار کی تخلیقی پیشکش تک محدود نہیں رہا بلکہ لباس، مذہبی و ثقافتی روایات، پالتو جانوروں اور اشتہارات میں تہواروں کی نمائندگی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک وسیع بحث میں تبدیل ہوگیا۔ بالآخر برانڈ کی جانب سے اشتہار واپس لینے کے فیصلے نے تنازع کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔











