خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنا دی ہے ، جب کہ تحریکِ انصاف نے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کا اعلان کیا ہے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سائفر معاملے کے لئے بنائی گئی خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کی۔
عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سات مارچ 2022 کو امریکا میں پاکستانی سفارت خانے سے موصول ہونے والے خفیہ مراسلے کو قومی سلامتی کا خیال کیے بغیر ذاتی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جب کہ شاہ محمود قریشی نے بطور وزیر کارجہ انہیں مکمل تعاون فراہم کیا۔۔
منگل کے دن بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد سرکاری دفاعی وکلا اور استغاثہ نے حتمی دلائل دیے، عمران خان نے اپنی صفائی میں ایک گھنٹے سے زائد دورانیئے پر مشتمل اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔۔
عمران خان نے بیان میں کہا کہ سات مارچ 2022 کو انہوں نے جلسے میں جو کاغذ لہرایا تھا اس میں صرف خطرے کا ذکر کیا تھا کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔ ان کے بقول پیپر لہرانے کا مقصد اس وقت کے آرمی چیف کو یہ پیغام دینا تھا کہ اگر ان کی حکومت کے خلاف سازش ہوئی تو پوری سازش کو بے نقاب کردیا جائے گا۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سائفر وزیراعظم آفس میں تھا جس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور سیکریٹری پروٹوکول پر آتی ہے۔ان کے ساڑھے تین سالہ دورحکومت کے دوران یہ واحد دستاویز ہے جو وزیراعظم آفس سے گم ہوئی۔
عمران خان نے مزید کہا کہ انہیں نہیں معلوم سائفر کہا ہے۔ان کے سرکاری معاون (اے ڈی سی) میں سے کسی ایک نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی ایما پر سائفر چوری کیا۔
سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت اپریل 2022 میں گرائی گئی۔ لیکن اس کی سازش اکتوبر 2021 میں اس وقت شروع ہوئی جب جنرل باجوہ نے آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کو تبدیل کیا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ حکومت گرانے کے چار ماہ بعد جنرل باجوہ نے کہا کہ مجھ پر اور شاہ محمود قریشی پر سیکریٹ ایکٹ کے تحت کیس ہوگا۔ اس دھمکی کے بعد ان کے خلاف 200 مقدمات درج ہوئے جس کا مقصد ہمارا منہ بند کرانا تھا۔
بیان ریکارڈ ہونے کے بعد فاضل جج نے سزا سنانے سے پہلے عمران خان سے پوچھا کہ ’عمران خان صاحب سائفر کہاں گیا؟جس پر عمران خان نے جواب دیا: ’میں نے اپنے بیان میں لکھوا دیا ہے، وزیراعظم آفس کی سکیورٹی ذمہ داری میری نہیں تھی، سائفر میرے پاس نہیں ہے۔‘
جس کے بعد خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔











