اہم ترین

جمہوری استحکام ہی ملک کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ ہے: کور کمانڈرز کانفرنس

پاک فوج کی اعلیٰ ترین قیادت نے اعادہ کیا ہے کہ جمہوری استحکام ہی ملک کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

آئی ایس پی آرکے اعلامیے کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 263ویں کور کمانڈر کانفرنس ہوئی۔ اس موقع پر ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مسلح افواج کے افسران، جوانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں سمیت شہداء کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

کور کمانڈر کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دشمن قوتوں کے کہنے پر کام کرنے والے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں سے ریاست کی پوری طاقت سے نمٹا جائے گا۔

اس موقع پر آرمی چیف نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف کوششوں کے ثمرات کو مستحکم کرتے رہیں۔

کانفرنس کے شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیا اور غزہ میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کی۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو پاکستانی قوم کی مکمل سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت حاصل ہے اور ہم مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کےلیے اپنے بھائیوں کے اصولی مؤقف کی حمایت جاری رکھیں گے۔

فورم نے اس بات کا اظہار کیا کہ مسلح افواج نے دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق عام انتکابات کے دوران عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا اور اس سے زیادہ افواج پاکستان کا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کچھ مخصوص مگر محدود سیاسی عناصر، سوشل میڈیا اور میڈیا کے کچھ لوگ مسلح افواج کو بدنام کر رہے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے۔

فورم نے کہا کہ جمہوری استحکام ہی ملک کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ مفاد پرست عناصر کی توجہ اپنی ناکامیوں کو پسِ پشت ڈال کر سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔غیر آئینی اور بےبنیاد سیاسی بیان بازی اور جذباتی اشتعال انگیزی کا سہارا لینے کی بجائے ثبوت کے ساتھ مناسب قانونی عمل کی پیروی کی جائے۔

پاک فوج کی اعلیٰ ترین قیادت نے کہا کہ اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری، وَن ڈاکومنٹ رجیم اور غیر قانونی تارکین کی باعزت اور محفوظ وطن واپسی سمیت تمام غیر قانونی سرگرمیاں روکنے کے لئے بھرپور مدد فراہم کی جائے گی۔

پاکستان