اہم ترین

شام میں باغی دارالحکومت دمشق کے قریب پہنچ گئے

شامی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ دمشق سے تقریباً 12 میل دور ہیں۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس مانیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے دارالحکومت دمشق سے 10 کلومیٹر دور جنوب مغربی دیہی علاقے خالی کردیئے ہیں جس کے بعد ان پر مقامی جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق شام میں ماضی کے القاعدہ و داعش اور موجودہ حیات تحریر الشام کے جنگجو مسلسل پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔

باغی کمانڈر حسن عبدالغنی نے کہا ہے کہ ہماری افواج دمشق کے دیہی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ دارالحکومت کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔

ایچ ٹی ایس کے رہنما ابو محمد الگولانی کے بجائے احمد الشارع کی عرفیت سے ٹیلی گرام پر باغی جنگجوؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق ان کا انتظار کر رہا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس مانیٹر کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ حکومتی فورسز نے دارالحکومت دمشق سے 10 کلومیٹر دور جنوب مغربی علاقوں میں واقع دیہات اور قصبے خالی کردیئے ہیں۔ جن پر مقامی جنگجوؤں نے قبضہ کر لیا ہے۔

اگلے مورچوں سے بھاگنے والے شامی فوجی القائم بارڈر کراسنگ کے ذریعے عراق میں داخل ہورہے ہیں۔ جس کی تصدیق عراق کے سیکورٹی ذرائع نے بھی کی ہے۔ عراق میں داخل ہونے والے سرکاری فوجیوں میں سے کچھ شدید زخمی بھی ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

دوسری طرف شام میں بشار الاسد کی حکومت کو بچانے کے لئے ایران ، روس اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں موجود ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس، ترکیہ اور ایران کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ہے کہ شام میں دشمن کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا۔ ماسکو شامی حکومت اور “جائز اپوزیشن” کے درمیان بات چیت دیکھنا چاہتا ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا اس سے قطع نظر کہ کہ اسلام پسند باغی گروپ حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) نے اپنے رجحانات میں تبدیلی کی ہے لیکن پھر بھی وہ دہشتگرد ہی ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کو شامی سرزمین پر قبضہ کرنے کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔

پاکستان