اہم ترین

غزہ کے بچے موت کے خواہشمند

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں حقوق انسانی کے گروپوں کی طرف سے کی گئی تشخیص سے پتہ چلا ہے کہ سروے میں شامل تقریبا 96 فیصد بچوں نے محسوس کیا کہ ان کی موت قریب ہے جبکہ 49 فیصد نے مرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

سروے کے مطابق غزہ کے 79 فیصد بچوں کو مسلسل ڈراؤنے خواب آرہے تھے اور 73 فیصد میں جارحیت کی علامات ظاہر ہوئیں۔

وار چائلڈ یوکے کی چیف ایگزیکٹو ہیلن پیٹنسن نے اس رپورٹ کو دنیا میں کہیں بھی بچوں کی ذہنی تندرستی کے بارے میں خوفناک ترین قرار دیا ہے۔

ہیلن پیٹنسن نے کہا کہ غزہ کے بچے اس جنگ کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں جس کے آغاز میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا ، وہ جسمانی طور پر بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور جنگ کی بربریت سے پیدا ہونے والے نفسیاتی زخموں کا شکار ہیں۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے یو این آر ڈبلیو اے (اُنروا) کے مطابق پچھلے چار ماہ میں غذائیت کی شدید کمی کا شکار 19 ہزار بچے اسپتالوں میں داخل ہوئے۔ یہ تعداد غزہ کی پٹی میں سال کے پہلے نصف میں ریکارڈ کیے گئے کیسوں سے تقریبا دگنی ہے ۔غزہ میں بڑھتی غذائی قلت اسرائیل کی جانب سے امداد کے داخلے کو روکنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے

یو این آر ڈبلیو اے کا کہنا ہے کہ اس کے واحد بنیادی صحت مرکز میں گزشتہ 3 مہا کے دوران صرف ایک بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ انسانی جانیں بچانے کے لیے فوری امداد اور جنگ بندی اب بہت ضروری ہے ۔

پاکستان